یکم مارچ 1991
الرسالہ، مئی ۱۹۹۱، صفحہ ۵۰
یکم مارچ 1991
خلیج کی جنگ احمقانہ اقدام پر شروع ہوئی اور آخر کار بدترین شکست پر ختم ہوگئی۔ آج کے اخبارات عبرتناک خبروں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا (یکم مارچ) نے نہایت جلی حروف میں اپنے پہلے صفحہ پر یہ سرخی قائم کی ہے کہ خلیج کی جنگ ختم (Gulf war ends) اس کے ساتھ سات کالی تصویر ہے جس میں عراق کے جنگی قیدی بڑی تعداد میں ٹرکوں میں بھرے ہوئے ہیں اور امریکی سپاہی ان کو مخصوص کیمپوں کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ تصویر اس بات کا اعلان ہے کہ یہ شکست بھی تھی اور اسی کے ساتھ ذلت اور رسوائی بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں "رسوا کن شکست" کا اتنا بڑا واقعہ اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے وہ واقعہ یاد آگیا جو ۵۸۶ ق م میں بنی اسرائیل کے اوپر بختو ک نصر (Nebuchadrezzar II) کے ہاتھوں گزرا تھا۔ اس کا ذکر قرآن (بنی اسرائیل ۵) میں مختصر طور پر اور بائبل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اس سلسلہ میں بائبل کی کتاب یرمیاہ کا مطالعہ نہایت عبرت انگیز ہے۔ امریکہ کے زیر قیادت اتحادیوں کے طاقتور جہازوں نے رات دن بمباری کرکے عراق کی اقتصادیات کو تباہ کر دیا۔ عراق کی زمین کے نیچے دنیا کے تیل کے ذخیرہ کا دس فی صد موجود ہے۔ تیل کے ذریعہ اس کی آمدنی ۴۵ بلین ڈالر سالانہ تھی۔ مگر اب یہ حال ہے کہ عراق کے شہروں میں لوگ سڑکوں پر ٹوٹی پھوٹی چیزیں جمع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تاکہ اس سے اپنے چولہے کو جلائیں۔ عراق کو تباہ کرنے کے بعد اتحادی فوجوں نے عراق اور کویت کے درمیان سپلائی لائن کاٹ دی۔ کویت میں مقیم عراقی فوج بالکل بے سہارا ہو گئی اور صرف دو دن کی زمینی کارروائی میں ہتھیار ڈال کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجی مارے گئے، ۳۰ ہزار قیدی بنائے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ روایتی ہتھیاروں اور " ہائی ٹیک " کے درمیان مقابلہ تھا جس میں روایتی ہتھیاروں کو لازماً شکست کھانا تھا۔
جنگ میں تمام دنیا کے مسلمان صدام کے حامی بن گئے تھے۔ اس اعتبار سے صدام کی شکست ساری دنیا کے مسلمانوں کی شکست ہے۔ عراقی لیڈروں نے اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس نادانی کے ذریعہ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں رسوا کر لیا ہے۔ اس واقعہ پر یہ حدیث صادق آتی ہے کہ : کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا گیا کہ کوئی شخص خود اپنے کو کیوں کر ذلیل کرے گا۔ فرمایا کہ وہ ایسے فتنہ کا سامنا کرے جس سے نمٹنے کی طاقت اس کے اندر نہ ہو (مشکوة المصابیح ۲ / ۷۱۱)