حج اسپرٹ
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۴
حج اسپرٹ
حج بامقصد زندگی کا یہ ہر سال ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدائی مشن کے لیے انتہائی بامقصد زندگی گزاری۔ حتیٰ کہ وہ اس بامقصد زندگی کا ایک مثالی نمونہ بن گئے۔ حضرت ابراہیم پر اس بامقصد زندگی کے سلسلہ میں جو مراحل گزرے، حاجی انھیں مراحل کا علامتی اعادہ کرتا ہے۔ وہ مقرر دنوں میں حضرت ابراہیم کی لمبی تاریخ کو دہراکر اپنے اندر یہ عزم تازہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملہ میں حضرت ابراہیم کو اپنے لیے نمونہ بنائے گا۔ حضرت ابراہیم نے جو کچھ اپنے زمانہ میں اپنے حالات کے اعتبار سے کیا، اسی کو وہ دوبارہ اپنی زندگی میں اپنے حالات کے اعتبار سے ظہور میں لائے گا۔ حج کے تمام مراسم اپنی حقیقت کے اعتبار سے بامقصد زندگی کے مختلف مرحلے ہیں۔ مقصدی زندگی اختیار کرنے کے بعد جو کچھ ایک انسان پر گزرتا ہے، وہ حضرت ابراہیم پر اپنی کامل صورت میں گزرا۔ ہر زمانہ میں اہل ایمان کو بامقصد زندگی گزارنے کے لیے دوبارہ یہی سب کچھ کرنا ہے۔ سچا حاجی وہی ہے جو اس نیت اور اس حوصلہ کے ساتھ حج کے مراسم ادا کرے۔
بامقصد زندگی سب سے پہلے شعوری فیصلہ چاہتی ہے، حاجی حج کی نیت کرکے اور احرام پہن کر یہی شعوری فیصلہ کرتا ہے۔ بامقصد زندگی مالی انفاق کی طالب ہوتی ہے، حاجی اپنی پاک کمائی سے سفر حج کے اخراجات اٹھا کر اسی مقصدیت کا اظہار کرتا ہے۔ مقصد کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی متحرک ہو ۔ حسب ضرورت وہ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر کرے، حاجی اپنے وطن سے حجاز کا سفر کر کے اسی شرط کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے۔
بامقصد آدمی ایک مرکزی نقطہ مقرر کرتا ہے اور اسی کے گرد اپنی پوری زندگی کو منظم کرتا ہے، حاجی کعبہ کے گرد گھوم کر اسی مقصدی صفت کو اختیار کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔ بامقصد آدمی کو اپنے مقصد کی راہ میں سرگرم ہونا پڑتا ہے، حاجی صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ کر اسی سرگرمی کو اپنانے کا اعلان کرتا ہے۔ بامقصد آدمی ہر وہ قربانی پیش کرتا ہے جو اس کا مقصد اس سے طلب کرے، حاجی زمانہ حج میں جانور کو قربان کر کے اسی بات کا علامتی عہد کرتا ہے۔ بامقصد آدمی دوسرے ہم خیال لوگوں کے ساتھ متحد ہو جاتا ہے تاکہ اس کا عمل زیادہ مؤثر اور طاقتور ہو سکے، حاجی عرفات کے میدان میں تمام لوگوں کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues