حج اسپرٹ
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۵
جمع ہو کر اسی جذبہ اتحاد کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ وغیرہ حج ابتدا ہے ، وہ انتہا نہیں۔ اس کی ابتدا مقاماتِ حج میں ہوتی ہے ، اور اس کی انتہا اور تکمیل وہاں سے لوٹنے کے بعد حاجی کی اپنی عملی زندگی میں۔
یہ ابراہیمی مقصدِ دعوت و تبلیغ کا مقصد ہے۔ حضرت ابراہیم کا مشن دعوت الی اللہ کا مشن تھا۔ اسی کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی کو وقف کیا۔ حج دراصل حضرت ابراہیم کی اسی سنت کو زندہ کرنے کا عزم ہے۔ حقیقی حاجی وہی ہے جو حج کے سفر سے یہ عزم اور یہ حوصلہ لے کر اپنے وطن واپس آئے ۔ حضرت ابراہیم نے عراق میں لمبی مدت تک دعوت دی۔ مگر وہاں کے لوگ مشرکانہ تمدن میں اتنا زیادہ غرق ہو چکے تھے کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ صدیوں تک مشرکانہ تمدن کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے وہاں کی پوری نسل کا شاکلہ بگڑ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ ایک نئی قوم بنائی جائے جو اپنی فطرت پر قائم ہو اور پھر توحید کے پیغام کو قبول کر کے اس کی علم برداری کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے اسی قسم کی ایک نئی نسل بنانے کے لیے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے بے آب و گیاہ صحرا میں بسا دیا۔ جہاں تمدن سے دور اور فطرت کے ماحول میں پرورش پا کر وہ نسل بنی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہی لوگ تھے جو پیغمبر آخر الزماں کے ہاتھ پر ایمان لائے اور ایک طاقت ور ٹیم بن کر ساری دنیا میں موحدانہ انقلاب برپا کیا۔
آج دوبارہ حضرت ابراہیم کی اسی سنتِ دعوت کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اسلام کو دوبارہ داعیانِ حق کی ایک ٹیم درکار ہے جو اسلام کے پیغام کو لے کر اُٹھے اور اس کو عالمی سطح پر پھیلا دے۔ اب دوبارہ وہ وقت آ گیا ہے کہ کچھ لوگ اپنے بیٹوں کو خدا کے دین کی خدمت کے لیے وقف کریں جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنے زمانہ میں اپنے بیٹے کو خدا کے دین کی خاطر وقف کیا۔ اسی قربانی سے پہلے بھی خدا کے دین کی تاریخ بنی تھی ، آج بھی اسی قسم کی قربانی سے خدا کے دین کی تاریخ دوبارہ ظہور میں آئے گی ۔ آج ساری دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ مختلف اسباب کے تحت لوگوں میں یہ رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ دین حق کو جانیں۔ اب ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اس مقصد کے لیے اٹھیں۔ وہ ہر ملک میں جائیں اور وہاں کے باشندوں کو خدا کے دین کا پیغام پہنچائیں مگر یہ دعوتی مواقع عملاً استعمال نہیں ہو رہے ہیں۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues