Al-Risala · June 1991 · page 7

ایک پیغام

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۷

ایک پیغام

کشمیر کے کچھ نوجوانوں نے پوچھا کہ کشمیر کے لیے آپ کا پیغام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ کشمیر کے بارہ میں میری ایک ہی رائے ہے جس کو میں ۱۹۷۰ء سے بار بار ظاہر کرتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ ان کے مسئلہ کا حل حقیقت پسندی میں ہے نہ کہ جذباتی نعروں اور ٹکراؤ کی سیاست میں۔

ایک طرف قرآن و حدیث اور دوسری طرف تاریخ کے مطالعہ سے میں نے یہ بات پائی ہے کہ یہ دنیا ان لوگوں کے لیے ہے جو حقائق کو سمجھیں اور ان کی رعایت کرتے ہوئے سنجیدہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ حقائق سے بے پروا ہو کر جذباتی اقدام کرنا صرف اپنی بربادی میں اضافہ کرنا ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

موجودہ دنیا میں زندگی کی تعمیر کے لیے جن حقیقتوں کو سمجھنا ہے، ان میں سے ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ عمل کسی پر جوش اقدام کا نام نہیں۔ عمل دراصل نام ہے مواقع کو جان کر انہیں استعمال کرنے کا۔ آپ ممکن سے آغاز کر کے ناممکن تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے ناممکن سے آغاز کیا تو آپ ممکن کو بھی کھو دیں گے، اور ناممکن تو پہلے ہی سے آپ کے لیے کھویا ہوا تھا۔

دوسری اہم حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز جو آدمی کو ملتی ہے، وہ اہلیت کی بنیاد پر ملتی ہے۔ یہاں کوئی بھی چیز مطالبہ یا توڑ پھوڑ کے ذریعہ حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس دنیا میں جس شخص یا قوم کو کچھ لینا ہے وہ پرامن تعمیری جدوجہد کے ذریعہ اس کی اہلیت اپنے اندر پیدا کرے۔ اس کے بعد یقینی طور پر وہ اپنی مراد کو پالے گا۔ یہاں کسی کے لیے نہ پانا ابدی ہے اور نہ کھونا ابدی۔

اس دنیا میں کوئی کسی سے نہیں چھینتا، ہر ایک خود اپنے آپ کو محروم کرتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی کسی کو دھوکا نہیں دیتا، ہر ایک خود اپنی نادانی سے دھوکا کھاتا ہے۔ یہاں ناکامی یہ ہے کہ آدمی زندگی کے مقابلہ میں نا اہل ثابت ہو، اور کامیابی یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اہل ثابت کر کے آگے بڑھ جائے۔ اس دنیا میں صحیح اقدام وہ ہے جس کا ہر دن آدمی کو کچھ اور آگے بڑھاتا ہو۔ جو اقدام آدمی کو پیچھے لے جانے کا سبب بنے، وہ اقدام ہی نہ تھا۔ وہ خودکشی کی ایک چھلانگ تھی جس کو کم فہمی کی بنا پر اقدام سمجھ لیا گیا۔ (۲۹ اپریل ۱۹۹۱)

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page