حج اسپرٹ
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۶
کارکن نہیں جو دعوت کے اس کام کو موثر طور پر انجام دے سکیں۔
یہ صورت حال بتاتی ہے کہ آج سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے۔ آج کا اہم ترین تقاضایہ ہے کہ بڑے پیمانے پر ایک "تبلیغی درس گاہ" قائم کی جائے ۔ اس میں مسلم نوجوانوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ مذکورہ کام کے لیے تیار کیا جائے۔ اس درس گاہ میں وہ عالمی زبانوں میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ ملکوں اور قوموں کی تاریخ پڑھیں اور تقابلی طور پر مذاہب کا مطالعہ کریں۔ اس طرح ضروری علوم میں واقفیت پیدا کر کے وہ سارے عالم میں اسی طرح پھیل جائیں جس طرح دورِ اول کے مسلمان خشکی اور تری میں پھیل گئے تھے۔
اس طرح کی ایک تبلیغی درس گاہ میں اپنے ذہین بیٹوں کو داخل کرنا بلا شبہ والدین کے لیے ایک قربانی ہے۔ مگر آج ابراہیمی سنت کو زندہ کرنے کے لیے اسی قربانی کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی ایک تبلیغی درس گاہ اگر قائم ہو تو گویا وہ دورِ جدید کی ایک وادی غیر ذی زرع ہوگی جہاں ابراہیمی سنت پر عمل کا دعویٰ کرنے والے حاجی اپنی اولاد کو لے جا کر بسائیں گے (ابراہیم، ۳۷)
آج کے حاجی کو یہ ضرورت نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو کسی ریگستان میں لے جا کر بسائے۔ آج اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ذاتی خدمت کے دائرہ سے نکال کر دینی خدمت کے دائرہ میں بھیجے۔ وہ اپنے بیٹے کو اسلامیات کی تعلیم دے۔ اسی کے ساتھ وہ اس کو وقت کی زبان اور علوم سے واقف کرائے۔ اور پھر اس کو موقع دے کہ وہ اپنے ماحول سے نکل کر اقوام عالم کے درمیان پہنچے اور ان کو طاقت ور انداز میں خدا کے دین کا مخاطب بنائے۔
آج اسلامی دعوت کو دوبارہ تازہ دم کارکنوں کی ایک ٹیم درکار ہے۔ یہ ٹیم دوبارہ ابراہیمی قربانی ہی کے ذریعہ بن سکتی ہے۔ حج کے مناسکِ اسلام کی اسی ضرورت کا عالمی اعلان ہیں۔ کیا کوئی ہے جو حج کی اس پکار کو سنے، کیا کوئی ہے جو اس پکار کی طرف دوڑے، اور دوبارہ ابراہیمی سنت کو زندہ کر کے اسلام کی نئی تاریخ بنائے ۔
یہی حج اسپرٹ ہے، اور اسی حج اسپرٹ کو زندہ کرنا حاجیوں کا سب سے بڑا کام۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues