Al-Risala · June 1991 · page 13

پہچان کا فرق

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۳

پہچان کا فرق

مکی دور کے آخر میں جو واقعات پیش آئے ، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک بار قریش مکہ کے سردار کعبہ کے اندر جمع ہوئے۔ انھوں نے باہمی مشورہ سے طے کیا کہ محمد کو بلا کر ان کے سامنے کچھ مطالبے رکھے جائیں ۔ اگر وہ ان مطالبوں کو پورا کر دیں تو ہم لوگ ان کا پیغمبر ہونا مان لیں۔ اور اگر وہ ان مطالبوں کو پورا نہ کریں تو ہمارے لیے ان کو رد کرنے کا معقول عذر ہو جائے گا۔ چنانچہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا۔ اس موقع پر انھوں نے آپ سے جو مطالبے کیے ، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا : وليبعث لنا من مضى من آبائنا۔ و يمكن (اپنے رب سے کہیے) وہ ہمارے باپ دادا کو فيما يبعث لنا منهم قصی بن کلاب زندہ کر دے جو کہ گزر گئے ۔ اور جن کو وہ زندہ کرے فانه كان شيخا صدوقا، فنسألهم ان میں قصی بن کلاب بھی ضرور ہوں، کیوں کہ وہ بزرگ عما تقول احق هو ام باطل اور سچے تھے ۔ پس ہم ان سے اس کی بابت پوچھیں (سيرة ابن كثير، المجلد الاول ، صفحه ۴۸۰) جو تم کہتے ہو کہ وہ حق ہے یا باطل ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام بزرگوں سے زیادہ بزرگ اور تمام سچے لوگوں سے زیادہ سچے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ قدیم مکہ کے لوگوں کو قصی بن کلاب کا بزرگ اور سچا ہونا سمجھ میں آیا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بزرگ اور سچا ہونا ان کی سمجھ میں نہ آسکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قصی بن کلاب کی شخصیت ایک گزری ہوئی شخصیت تھی ۔ زمانہ کے ساتھ ان کی حیثیت لوگوں کی نظر میں مسلم ہو چکی تھی ۔ اس کے مقابلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ایک معاصر شخصیت تھی۔ آپ کی بزرگی اور سچائی، اپنی تمام تر رفعتوں کے باوجود، ابھی ایک شخص کے اندرونی جوہر کی حیثیت رکھتی تھی۔ اُس وقت تک وہ خارجی تاریخ کے ذریعہ معروف و مسلم نہیں بنی تھی ۔ اہل کفر صرف خارجی تاریخ کو دیکھ سکتے تھے، وہ پیغمبر کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ اہل ایمان نے اندرونی جوہر کی سطح پر پہچانا، اس لیے وہ پیغمبر کو فورا پہچان گئے اور آپ پر ایمان لائے۔ آنکھ والا صرف وہ ہے جو کسی انسان کو اس کے جوہر کی بنیاد پر پہچانے۔ وہ شخص اندھا ہے جو کسی انسان کو صرف اس وقت پہچانے جب کہ اس کے گرد تاریخ کی تصدیقات جمع ہو چکی ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page