هدیہ رحمت
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۴
هدیہ رحمت
قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وما ارسلناك الا رحمة للعالمين (ہم نے تم کو عالم والوں کے لیے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے) حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ سے کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، مشرکین کے خلاف بد دعا کیجیے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں ، میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ( انی لم ابعث لعانا و انما بعثت رحمة ) حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کی رحمت ہوں جو ہدیہ کے طور پر بندوں کے پاس بھیجی گئی ہے ۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابن عمر قال ، قال رسول اللہ صلی اللہ اللہ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّم : ان اللہ بعثنی رَحْمَةً مَهْدَاةً نے فرمایا ۔ اللہ نے مجھ کو رحمت اور ہدیہ بنا کر بھیجا ہے۔ بعثت برفـع قوم وخفض آخرین میں ایک قوم کی بلندی اور دوسری قوم کی پستی کے (تفسیر ابن کثیر ۲۱۰۱/۳) ساتھ بھیجا گیا ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے نمونہ ہیں۔ نیز ختم نبوت کے بعد آپ کی امت آپ کی نیابت کے مقام پر ہے۔ اب امت کو اقوام عالم کے لیے وہی کچھ بننا ہے جو آپ اپنی زندگی میں لوگوں کے لیے بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری اقوام کے لیے خدا کی طرف سے رحمت اور تحفہ تھے ، اب آپ کی تبعیت میں آپ کی امت کو بعد کی قوموں کے لیے اسی طرح رحمت اور تحفہ بننا ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر اس امت کا امت محمدی ہونا متحقق نہ ہو گا ۔
امت محمدی کو دوسروں سے مانگنا نہیں ہے بلکہ دوسروں کو دینا ہے۔ انھیں لوگوں کے لیے خدا کا ہدیہ رحمت بننا ہے۔ انھیں اس طرح رہنا ہے کہ ان سے اہل عالم کو نفع بخشی کا تجربہ ہو نہ کہ ضرر رسانی کا ۔ اس مقصد کے لیے امت کو صبر کرنا ہے تاکہ وہ چھٹنے کے باوجود دے ۔ تاکہ وہ زیادتیوں کے باوجود لوگوں کی خیر خواہ بنے ۔ تاکہ ظلم کے باوجود وہ اپنے آپ کو انتقام کے جذبہ سے پاک رکھے۔ صبر و برداشت کی صفت کے بغیر وہ امتحان کی اس دنیا میں دوسروں کے لیے ہدیہ رحمت نہیں بن سکتی۔ اور جب تک وہ دوسروں کے لیے رحمت نہ بنے، خود اس کے اوپر بھی خدا کی رحمت کے دروازے بند رہیں گے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues