تعلیم ، تحریک
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸
تعلیم ، تحریک
علی گڑھ کالج (موجودہ مسلم یونیورسٹی) کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ۔ ایک مسلمان نے اپنے لڑکے کو تعلیم کے لیے علی گڑھ بھیجا۔ روانگی سے قبل انھوں نے اپنے صاحبزادے کو جو ضروری ہدایات دیں، ان میں سے ایک ہدایت یہ تھی کہ " دیکھو ، رائد نگ کلب کے گھوڑے پر وضو کے بغیر سوار نہ ہونا " اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں علی گڑھ کے بارہ میں مسلمانوں کے جذبات کیا تھے۔ وہ لڑکوں کو گھوڑے پر چڑھاتے ہوئے " بسم اللہ " اور " وضو " کی تاکید کرتے تھے۔ اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ علی گڑھ میں وہ مسلم نسل تیار نہ ہوسکی جو دورِ جدید کی شہ سوار بن سکتی اور جدید چیلنج کا مقابلہ کرکے اسلام کو دوبارہ اس بلند مقام پر بٹھاتی جو دین فطرت ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے ابدی طور پر مقدر کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے انسان تحریک سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ تعلیم سے۔ تعلیم گاہ میں صرف زبان اور علوم سکھائے جاتے ہیں ۔ وہاں پروفیشنل سرٹیفکیٹ دیے جاتے ہیں ۔ اور ایک تعلیم گاہ کے ذریعہ صرف اتنا ہی ہو سکتا ہے۔ تعلیم گاہ آدمی کو واقفِ کار بنا سکتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ لکھنے اور پڑھنے لگے۔ مگر فکری انقلاب اور مقصدی حرکت اس سے الگ ایک چیز ہے ، اور وہ کسی تعلیم گاہ کے ذریعہ کبھی پیدا نہیں کی جاسکتی۔
خود علی گڑھ میں اس کی ایک عملی مثال موجود ہے ۔ طلبہ کے سرپرستوں کی مذکورہ تمناؤں یا یونیورسٹی میں تھیالوجی کے شعبہ سے وہاں کے طلبہ میں کبھی دینداری نہ آسکی۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب تبلیغی جماعت نے وہاں دعوتی اور تحریکی انداز میں محنت کی تو بہت سے طلبہ میں دینداری پیدا ہوگئی۔
ضرورت ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ تحریک کا اضافہ کیا جائے۔ تحریک سے میری مراد طلبہ کی یونین نہیں ہے۔ وہ تو میرے نزدیک صرف بگاڑ پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ میری مراد ایک ایسی تحریک سے ہے جو مکمل طور پر غیر سیاسی انداز کی ہو اور وقت کے فکری معیار پر اسلامی دعوت کا کام کرے۔ یہی تحریکی عمل اس بات کا ضامن ہوگا کہ علی گڑھ میں صرف ڈگری ہولڈر پیدا نہ ہوں بلکہ وہاں سے وہ انقلابی انسان تیار ہو کر نکلیں جو اسلام کی نئی تاریخ بنا سکیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues