Al-Risala · June 1991 · page 17

دوگواہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۱۷

دوگواہ

حاجی امداد اللہ صاحب (۱۸۹۹ - ۱۸۱۷) دیوبند کے بڑے بزرگوں میں سے تھے۔ ان کا طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کے بارہ میں کوئی بری بات کہتا تو وہ فوراً کہتے کہ دوگواہ لے آؤ۔ اور جب وہ دوگواہ نہ لاتے تو بات کو وہیں ختم کر دیتے اور کہتے کہ جب تمہارے پاس اپنی بات کے حق میں دوگواہ نہیں ہیں تو تمہاری بات قابلِ اعتبار نہیں۔

یہ عین شرعی طریقہ ہے۔ اسلام میں معاملات کے اثبات کے لیے شہادت کا اصول رکھا گیا ہے۔ یعنی کوئی شخص کوئی معاملہ کرے یا کسی بات کا دعویٰ کرے تو وہ اپنے دعوے کے حق میں معتبر گواہ پیش کرے ۔ زنا کے معاملہ میں چار گواہ کا اصول ہے، اور بقیہ تمام معاملات میں دوگواہ کا اصول۔ ایک شخص کسی کے اوپر کوئی الزام لگائے تو البَيّنَة عَلى المُدّعیٰ کے شرعی اصول کے مطابق، اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا ثبوت پیش کرے ۔ ضروری ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کی بات بالکل بے بنیاد قرار دی جائے گی۔

مگر موجودہ زمانہ میں مزاجوں کے بگاڑ کی وجہ سے یہ اصول عملاً ختم ہو گیا ہے۔ خاص طور پر جس شخص سے کسی وجہ سے شکایت یا تلخی ہو جائے اس کے بارہ میں تو کسی قسم کے ثبوت کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جو بھی الٹی بات اس کے بارہ میں کہہ دی جائے اس کو سنتے ہی مان لیا جاتا ہے۔ نہ کوئی ثبوت مانگا جاتا اور نہ دوگواہ طلب کیے جاتے۔

یہ بیماری اتنی بڑھ گئی ہے کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس میں ملوث ہیں۔ حتیٰ کہ اکابر تک اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کم از کم میں نے اپنی زندگی میں کسی کے بارہ میں نہیں سنا یا جانا کہ اس کے سامنے اس کے "مخالف" پر کوئی الزام لگایا جائے اور وہ الزام لگانے والے سے کہے کہ اپنی بات کے ثبوت میں دوگواہ لاؤ، ورنہ تمہاری بات قبول نہیں کی جائے گی۔

قدیم زمانہ میں بزرگی کا مطلب وہ تھا جس کی مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ مگر آج بزرگی کا مفہوم بالکل بدل گیا ہے ۔ آج ایک آدمی گواہ اور ثبوت کے بغیر ایک الٹی بات کو مان لیتا ہے، اس کے با وجود اس کی بزرگی میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پھر بھی وہ اپنے معتقدین کے درمیان بدستور مقدس بنا رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page