تعمیر کا طریقہ
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰
تعمیر کا طریقہ
سینے کی سوئی جو بازار میں بکتی ہے ، وہ اچانک نہیں بن جاتی۔ بلکہ بہت سے مرحلوں سے گزر کر تیار ہوتی ہے۔ سوئی کے کارخانہ میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً ۲۰ مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے، تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کر سکے۔ سوئی بنانے والا ابتدائی لوہے کا تار ، کچے لوہے سے اسٹیل کا تار بننے تک جن مراحل سے گزرتا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ یہ ایک سادہ چیز کی مثال ہے۔ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دوسری مصنوعات اور پیچیدہ مشینوں کی تیاری میں کتنا زیادہ وقت لگتا ہوگا ۔
مادہ کو مطلوبہ قالب میں ڈھالنے سے بہت زیادہ مشکل یہ کام ہے کہ انسان یا کسی انسانی گروہ کو مطلوبہ قالب میں ڈھالا جائے ۔ مادہ اپنا ذاتی ارادہ نہیں رکھتا، مگر انسان کے اندر اپنا ذاتی ارادہ موجود ہے۔ اس لیے انسانی زندگی میں اصلاح کا کام بے حد مشکل ہو جاتا ہے ۔
مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان لیڈر اس حقیقت سے بالکل ناواقف ہیں ۔ وہ اس طرح کام کرتے ہیں گویا ملت کی تعمیر کے معاملہ میں کوئی نتیجہ حاصل کرنے کے لیے کسی لمبے عمل کی ضرورت نہیں۔ یہاں محض نعروں اور تقریروں سے وہ شاندار نتائج حاصل ہو سکتے ہیں جو دوسرے معاملات میں صرف منصوبہ بند عمل ہی کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں ۔
پچھلے سو برس کے اندر بے شمار سوئی کے کارخانے بنائے گیے، اور وہ کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ مگر اسی مدت میں رہنماؤں کی دھواں دھار کوششوں کے باوجود ملت کی تعمیر ممکن نہ ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سوئی کا کارخانہ بنانے کے لیے قدرت کے قانون کی پوری رعایت کی جاتی ہے۔ مگر ملت کا کارخانہ بنانے کے لیے قدرت کے قوانین کی رعایت نہیں کی جا سکی ۔ ملت کے معاملہ میں شاید لوگوں کا خیال ہے کہ محض نعرہ اور تقریر کا کرشمہ دکھانے سے نتیجہ برآمد ہو جائے گا۔ ملت کی تعمیر کا کام جلسوں اور مظاہروں سے شروع نہیں کیا جا سکتا۔ ملت کی تعمیر کا کام اصلاً افراد کی تعمیر کا کام ہے۔ اور افراد کی تعمیر کا کام خاموش محنت کے بغیر انجام پانا ممکن نہیں۔ یہی عقل اور تاریخ کا فیصلہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues