بزدلی نہیں اخلاق
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۲۱
بزدلی نہیں اخلاق
ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں ۔ مگر اس کی ایک بات مجھے پسند نہیں ۔ آپ مسلمانوں کو ہمیشہ صبر کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہ تو بزدلی ہے ۔ کیا آپ سارے مسلمانوں کو بزدل بنا دینا چاہتے ہیں ۔ یہ صاحب ایک چھوٹے دکاندار ہیں ۔ وہ عام ضرورت کی چیزیں بیچتے ہیں ۔ ایک روز میں ان کی دکان پر گیا۔ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکا آیا۔ اس کے ہاتھ میں دیا سلائی تھی ، اس نے دیا سلائی کی ڈبیہ زور سے ان کی طرف پھینکی اور بگڑ کر کہا : اس پر آپ ۶۰ تیلی لکھے ہوئے ہیں ۔ حالاں کہ اس میں صرف ۵۰ تیلیاں ہیں ۔ لڑکے نے گستاخی بھی کی تھی اور جارحیت بھی ۔ مگر دکان دار نے اس کے خلاف کچھ نہیں کہا ۔ بس خاموشی کے ساتھ دوسری ڈبیہ نکال کر اس کو دیدی ۔ نرمی کے ساتھ صرف اتنا کہا: کوئی بات نہیں ، دوسری لے جاؤ۔
لڑکا جب چلا گیا تو میں نے دکاندار سے پوچھا کہ لڑکے نے اتنی سخت بدتمیزی کی ، مگر آپ کچھ نہیں بولے ۔ دکاندار نے کہا کہ پہلے میں خوب بولتا تھا ، بلکہ گاہکوں سے لڑائی کر لیتا تھا ، مگر اس کے بعد کیا ہوا کہ میری دکانداری ختم ہوگئی ۔ پھر میں نے ایک بنیا کو دیکھا کہ وہ کیا کرتا ہے ، اس کی دکان خوب چل رہی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ گاہکوں سے کبھی نہیں الجھتا۔ ۔ وہ گاہک کی ہر الٹی بات کو نظر انداز کرکے اس سے معاملہ کرتا ہے۔ میں بھی ایساہی کرنے لگا ۔ اب خدا کے فضل سے میری دکان چلنے لگی ۔ بلکہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی چل رہی ہے ۔ دکاندار کی بات میں خاموشی کے ساتھ سنتا رہا ۔ آخر میں میں نے کہا : بھائی صاحب ، مجھ میں اور آپ میں صرف ایک لفظ کا فرق ہے ۔ آپ تجارت دنیا کے لیے بزدل بنے ہوئے ہیں ، میں تجارت آخرت کے لیے بزدل بن جانا چاہتا ہوں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا معاملہ " بزدلی " نہیں ، وہ ایک اخلاقی اصول ہے۔ وہ بے عملی نہیں بلکہ عین عمل ہے ۔ وہ ہار ماننا نہیں ہے بلکہ سب سے بڑی جیت کی طرف قدم بڑھانا ہے ۔ وہ کھونا نہیں بلکہ پانا ہے ۔ وہ کسی آدمی کے سامنے جھکنا نہیں ہے بلکہ رب العالمین کے سامنے اپنے آپ کو جھکانا ہے ۔ جو لوگ صبر کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ، اس کا سبب صرف ان کی ناسمجھی اور کوتاہ بینی ہے نہ کہ ان کی معاملہ فہمی اور سمجھداری ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues