Stephen W. Hawking, A Brief History of Time
الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵
سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گرم بگ بینگ کا ماڈل درست ہے اور اسی سے وقت کا آغاز ہوا ہے تو کائنات کی ابتدائی حالت حد درجہ احتیاط کے ساتھ منتخب کی گئی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک کائنات پھٹ کر ختم ہو چکی ہوتی۔
اس مظہر کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی جب تک یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کی توسیع کی شرح رفتار (Rate of expansion) حد درجہ احتیاط کے ساتھ منتخب کی گئی ہے۔
اسٹیفن ہاکنگ نے اس قسم کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ کائنات کیوں ٹھیک اس انداز پر شروع ہوئی، اس کا جواب دینا انتہائی مشکل ہوگا سوا اس کے کہ یہ مانا جائے کہ یہ خدا کا عمل ہے جس نے چاہا کہ وہ ہمارے جیسی مخلوق کو یہاں پیدا کرے :
It would be very difficult to explain why the universe should have begun in just this way, except as the act of a God who intended to create beings like us (p. 134). کائنات کی ایک حیرت ناک صفت یہ ہے کہ وہ خدائی تعبیر کے سوا کسی اور تعبیر کو قبول نہیں کرتی۔ کائنات ایک معلوم اور مشہود واقعہ ہے ۔ اس کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں بہترین دماغ اس کی تشریح و تعبیر میں مصروف رہے ہیں۔
کسی نے کہا کہ کائنات ہمیشہ سے اسی طرح ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ اپنے آپ بنی اور اپنے آپ چلی جا رہی ہے۔ کسی نے کہا کہ اسباب و علل کا ایک سلسلہ ہے جس نے کائنات کی تمام چیزوں کو وجود دیا ہے۔ کسی نے اصول ارتقاء کو کائنات کا خالق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ وغیرہ مگر خود انسانی معلومات ان تمام تشریحات و توجیہات کو رد کرتی رہیں ۔ کائنات کے نظام کے بارہ میں انسان جتنا زیادہ واقفیت حاصل کرتا ہے۔ اتنا ہی زیادہ یہ بات بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کا خالق و مالک ایک خدائے ذوالجلال کے سوا کوئی اور ہو۔
کائنات اپنے وجود کے ساتھ یہ گواہی دیتی ہے کہ اس کا خالق خدا ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کو خالق کائنات بتانا صرف ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ جس کے حق میں کوئی حقیقی ثبوت موجود نہیں ۔ اس سلسلہ میں جتنے دعوے یا مخالفانہ نظرئے پیش کیے گیے ، وہ خود علم انسانی کی روشنی میں غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues