Al-Risala · June 1991 · page 24

سائنس کی واپسی

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴

سائنس کی واپسی

ایک درخت جس کی جڑ کٹی ہوئی ہو، اس کو زمین میں لگائیں تو پہلے دن وہ بظاہر ہرا بھرا دکھائی دے گا۔ مگر اگلے ہی دن اس کی پتیاں مرجھانا شروع ہو جائیں گی۔ یہاں تک کہ وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا۔ یہی حال موجودہ زمانہ میں الحاد اور انکار مذہب کا ہوا ہے ۔ ابتدا میں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا مذہب کا دور ختم ہو گیا، اور اب انسانی تاریخ ہمیشہ کے لیے لامذہبیت کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ مگر جلد ہی یہ تمام خیالات بکھر گئے ۔ مذہب نئی طاقت کے ساتھ دوبارہ انسانی زندگی میں لوٹ آیا۔

انیسویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں اس چیز کا زور تھا جس کو پر جوش طور پر علمی الحاد کہا جاتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں سائنس میں جو نئی تحقیقات ہوئیں، )Scientific atheism( انھوں نے علمی الحاد کو بے زمین کرنا شروع کر دیا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں سر جیمز جینز نے اعلان کیا تھا کہ جدید سائنس نے جو کائنات دریافت کی ہے، وہ مشینی توجیہہ )Mechanical interpretation( کو قبول کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ اب اس صدی کے آخر میں نظریاتی طبیعیات دانوں )Theoretical physicists( کی بڑی تعداد ایسی پیدا ہو گئی ہے جو کائنات کی تشریح ایسے انداز میں کر رہی ہے جس کے مطابق ، خدا کو مانے بغیر کائنات کی توجیہہ ممکن نہیں ۔

اس سلسلہ میں ۱۹۸۸ میں ایک قابل ذکر کتاب چھپی ہے ۔ یہ ۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام حسب ذیل ہے :

Stephen W. Hawking, A Brief History of Time

بگ بینگ )Big bang( نظریہ کہتا ہے کہ کائنات اپنے آغاز سے اب تک ایک خاص رفتار سے مسلسل پھیل رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں اسٹیفن ہاکنگ نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ کائنات کے پھیلنے کا یہ عمل نہایت سوچا سمجھا )Well-calculated( ہے ۔

رفتار توسیع کی ابتدائی شرح حد درجہ صحت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے۔ کیوں کہ رفتار توسیع کی یہ شرح ۔ اس نازک شرح )Critical rate( کے انتہائی قریب ہے جو کائنات کو دوبارہ انہدام )Recollapse(

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page