Al-Risala · June 1991 · page 37

A day in the life of a salary man.

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷

میں دو جگہ ٹرکوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ آجکل ڈیزل کی سپلائی کم کر دی گئی ہے۔ نیز رات کو صرف چند پٹرول پمپ کھلے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ لمبی لائن ہے۔ ہر لائن میں سو کے قریب ٹرک کھڑے ہوئے نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ یہاں ٹرک ہے۔ انجن لگی ہوئی گاڑی ہے۔ ڈرائیور بھی اس کے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ غرض ہر چیز موجود ہے ، صرف ایک چیز ”ایندھن“ نہیں ہے، اس کی وجہ سے تمام گاڑیاں کھڑی ہو گئیں۔ ایک ”ٹرک“ ایندھن کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پھر اتنی بڑی کائنات کس طرح ایندھن کے بغیر ۳۰ بلین سال سے چل رہی ہے۔ آدمی اگر اس پر سوچے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔

دہلی سے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۹۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں پڑھنے کے لئے ایئر کمپنی کا میگزین و نڈس (Winds) موجود تھا۔ میں فلائٹ میگزین بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہوں ۔ مگر اس میں کوئی خاص چیز میرے پڑھنے کے لئے نہ تھی۔ تین سو صفحہ کا یہ رنگین چھپا ہوا میگزین زیادہ تراشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ چند معمولی قسم کے مضمون تھے۔ مثلاً ایک مضمون جاپان کی رسلنگ پر تھا۔ ایک مضمون کا عنوان تھا :

A day in the life of a salary man.

جاپان مکمل طور پر ایک تجارتی ملک ہے۔ دنیا کو دینے کے لئے اس کے پاس بہترین صنعتی چیزیں ہیں ۔ مگر علمی اور فکری ذوق رکھنے والوں کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں۔

اشتہارات کے لئے بڑی پرکشش زبان استعمال کی گئی تھی۔ مثلاً کار بنانے والی ایک کمپنی کا اشتہار تھا۔ کار کی ایک خوب صورت تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا۔ ۔۔ تہذیب کے راستہ پر (on the road to civilization) ایک اشتہار میں ٹیلیویژن بنا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ تعارفی الفاظ لکھنے کے بعد یہ جملہ درج تھا کہ ٹکنالوجی انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے لئے :

Technology for the benefit of mankind

میں نے سوچا کہ ایک مصلح بھی وہی زبان بولتا ہے جو ایک تاجر بولتا ہے۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ تاجر کا اصل مقصد تجارت ہے۔ مگر وہ شخصی الفاظ نہ بول کر عمومی انسانی الفاظ بولتا ہے۔ مگر مصلح جو لفظ بولتا ہے وہی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page