Al-Risala · June 1991 · page 38

Technology for the benefit of mankind

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۳۸

اس کا اصل مقصد بھی ہوتا ہے۔ گویا تاجر کی شخصیت میں ثنویت ہوتی ہے اور مصلح کی شخصیت میں وحدت۔ قدیم زمانہ میں دو قسم کی سواریاں رائج تھیں۔ ایک بری اور دوسری بحری۔ موجودہ زمانہ میں تیسری سواری وجود میں آئی ہے جو باعتبار نوعیت ابتدائی دونوں قسم کی سواریوں سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ہوائی سواری ہے۔ آج ہوائی سواری اس سے بھی زیادہ عام ہے جتنا قدیم زمانہ میں بری یا بحری سواری عام تھی۔ قدیم سواریوں میں تکمیل سفر کے بعد آدمی ” اندر سے باہر“ آتا تھا۔ جدید سواری میں وہ ” اوپر سے نیچے“ اترتا ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اولاد آدم ایک دوسرے کی دشمن ہوگی۔ یہ دشمنی (عداوت) ایک اخلاقی برائی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی دشمنی (کاپیٹیشن) دنیا کی تمام ترقیوں کا واحد سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہوئی۔ ابتدائی قسم کا ہوائی جہاز سب سے پہلے دو شخصوں نے، ۱۷ دسمبر ۱۹۰۳ء کو اڑایا تھا۔ مگر اس فن کی ترقی صرف اس وقت شروع ہوئی جب کہ فرانس اور جرمنی نے اس میں جنگی افادیت (war potential) کو محسوس کیا۔ ان دونوں ملکوں نے اس ”فلائنگ مشین“ کو ترقی دین شروع کیا۔ تاکہ وہ بوقت جنگ اس کو استعمال کر سکیں۔ اگست ۱۹۱۴ میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو فرانس نے تقریباً دو ہزار ہوائی جہاز تیار کر لئے تھے اور جرمنی کے پاس ایک ہزار جنگی جہاز تھے۔ ہوائی جہاز کی صنعت نے ابتدائی جنگ کی برکت سے ترقی کی۔ ۱۹۱۹ میں جب پہلی باقاعدہ کمرشیل فلائٹ کا آغاز نہ ہوا تو وہ بھی زیادہ تر استعماری عزائم کے تحت تھا ۔ جنگ پسندوں نے ابتدائی ہوائی جہاز کو ترقی دی، اس کے بعد امن پسندوں کو بھی اس کا ایک حصہ مل گیا۔

رابرٹ رنسی (Robert Runcie) ۱۹۲۱ میں پیدا ہوئے۔ وہ کیتھولک چرچ میں آرک بشپ آف کینٹر بری کے منصب پر ہیں۔ سفر کی بابت انھوں نے ایک دلچسپ بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ قرون وسطی میں لوگ مذہب کے لئے سفر کرتے تھے۔ جب کہ آج وہ اس لئے سفر کرتے ہیں کہ سفر ان کا مذہب ہے :

In the middle ages people were tourists because of their religion, ہماری پہلی منزل بینکا ک تھی جو تھائی لینڈ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہاں ایئر پورٹ پر تقریباً

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page