Al-Risala · June 1991 · page 40

United Nations High Commissioner for Refugees

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۴۰

برمی طلبہ کی تنظیم (All Burma Students Democratic Front) کے لیڈر نے کہا کہ ہماری تنظیم کا کوئی تعلق ہائی جیکنگ کے اس قابل مذمت واقعہ سے نہیں ہے۔ وہ ہمارے کچھ برے افراد (few bad individuals) نے کیا تھا۔ اسی قسم کے جواب ہندوستان میں مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر بھی دیتے ہیں۔ مگر جواب ان کے لئے عذر نہیں۔ کیوں کہ "برے افراد" کا ہاتھ پکڑنے کی ذمہ داری سب سے پہلے ان کی قوم پر آتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے برے افراد کے ہاتھ نہ پکڑے تو خدائی قانون کے مطابق اُن افراد کی برائی کی قیمت پوری قوم کو بھگتنی پڑے گی۔ ایک امریکی جرنلسٹ ملے۔ ان سے خلیج کے بحران کی بابت گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع سے مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش مشکل ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ جنگ ہو تو اس میں بہت سی جانیں ضائع ہوں گی اور اس سے امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچے گا :

A diplomatic solution may be messy, but fighting would cost too many lives and damage America’s interests. اس جواب سے امریکی ذہن کا اندازہ ہوتا ہے۔ خلیج کا مسئلہ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو پیدا ہوا۔ امریکی فوجیں اس کے فوراً بعد خلیج میں پہنچ گئیں۔ وہ جدید ترین سامانِ جنگ کے ساتھ عراق اور کویت کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ مگر اب تک امریکہ نے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا۔ کیوں کہ ان کا مذہب "انٹرسٹ" ہے، اور انٹرسٹ کے نقطہ نظر سے جنگی کارروائی کا فائدہ مشتبہ نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی مسلم ملک اتنی بڑی طاقت کے ساتھ وہاں موجود ہوتا تو اب تک جنگ کا آغاز اور اختتام دونوں ہو چکا ہوتا۔ خواہ اس کے نتیجہ میں "شہیدوں" کی لاش کے سوا اور کوئی چیز مسلم دنیا کے حصہ میں نہ آئے (۱۹ نومبر ۱۹۹۰)

ایک اور امریکی جرنلسٹ سے گفتگو ہوئی ۔ وہ ہندوستان کے سیاسی حالات سے واقف تھا۔ اس نے کہا کہ آپ کے ملک میں منڈل کمیشن اور رام جنم بھومی کے مسائل پیش آئے۔ آپ کے سابق وزیر اعظم مسٹر وی پی سنگھ لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے۔ چنانچہ پارلیمنٹ میں انھیں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا جس میں انھیں ۳۴۶ کے مقابلہ میں صرف ۱۴۲ ووٹ ملے۔ انھوں نے ۷ نومبر کو اپنا استعفا صدر کے پاس بھیج دیا۔ امریکہ کے لوگوں میں بھی صدر بش کے خلاف ناراضگی (resentment)

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page