Al-Risala · June 1991 · page 39

United Nations High Commissioner for Refugees

الرسالہ، جون ۱۹۹۱، صفحہ ۳۹

ایک گھنٹہ گزرا۔ ایئر پورٹ بہت صاف اور منظم تھا۔ ٹائیلٹ سے لے کر باہر کے مقامات تک کہیں کوئی تنکا یا دھبہ نظر نہیں آیا۔

طالب علمی کے زمانہ میں مجھے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا، مجھے ایک ٹکٹ ملا جس پر سیام لکھا ہوا تھا۔ یہ غالباً ۱۹۳۹ء کی بات ہے۔ اس وقت جو ملک "سیام" کہا جاتا تھا، اس کا موجودہ نام تھائی لینڈ ہے۔ پچاس برس پہلے یہ ٹکٹ صرف کاغذی ٹکڑے کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج وہ ٹکٹ اگر موجود ہو تو وہ نہایت قیمتی شمار ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچاس برس پہلے وہ صرف ڈاک کا ایک ٹکٹ تھا، مگر آج وہ تاریخ کی ایک دستاویز بن چکا ہے۔

تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک ہے۔ بینکاک کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہی شہر تھائی لینڈ کی تمام سیاسی اور تمدنی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ چنانچہ تھائی لینڈ کے تمام روزنامے بینکاک سے نکلتے ہیں۔ اسی طرح یہاں کے بیشتر ہفت روزہ اور ماہنامہ پرچے بھی۔ یہ پرچے تھائی، انگلش اور چینی زبانوں میں ہوتے ہیں۔

جہاز بینکاک سے ٹوکیو کے لئے روانہ ہوا تو راستہ میں پڑھنے کے لئے تھائی لینڈ کا انگریزی اخبار نیشن (The Nation) تھا۔ اس کے شمارہ ۱۹ نومبر ۱۹۹۰ء کا مطالعہ کیا۔ ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ برما کی فوجی حکومت نے مخالف برمی طلبہ کی داروگیر کی تو ۲۰۰ طلبہ وہاں سے بھاگ کر تھائی لینڈ آگئے ان میں سے تقریباً ۸۰۰ طلبہ اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرین: (UNHCR)

United Nations High Commissioner for Refugees

کے تحت رجسٹرڈ ہیں، ان کو ادارہ کی طرف سے پناہ گزیں کے طور پر ماہانہ الاؤنس (3,000 Bt.) ملتا ہے۔ مگر تھائی لینڈ کی حکومت ان برمی طلبہ کے خلاف ہوگئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود یہ لوگ پر امن قیام پر راضی نہیں۔ وہ تھائی لینڈ کو میں بنا کر برمی حکومت کے خلاف سرگرمیوں (anti-Rangoon political activity) میں مصروف ہیں۔ تھائی لینڈ میں مقیم برمی طلبہ دو جہازوں کو ہائی جیک کر چکے ہیں ایک اکتوبر ۱۹۹۰ میں دوسرا نومبر ۱۹۹۰ میں ۔ انھوں نے کہا: They had made the move to publicize the Burmese people's struggle to democracy.

‹ Previous page Next page › Contents of June 1991 All issues

Printed page