ذہنی انتشار
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹
بڑھی تو مسلمانوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ صرف ایک مسجد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملت کی موت وحیات کا مسئلہ ہے۔ اس لئے ہم اس معاملے میں کسی قیمت پر پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ ہندوؤں نے کہا کہ یہ ہمارے لئے صرف ایک مندر کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے لئے دوسری شکست (second defeat) کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے بٹوارہ کو مان کر پہلی بار شکست قبول کرلی تھی۔ اب ہماری حکومت ہے۔ اب ہم دوسری بار شکست کو قبول نہیں کریں گے۔ اس طرح ایک سادہ سا مسئلہ دو فرقوں کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا۔ اور جب کوئی مسئلہ وقار کا مسئلہ بن جائے تو اس کی پیچیدگی ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ وقار کی یہ لڑائی پچھلے پچاس سال سے جاری ہے اور اس نے ہندوستان کی ترقی کے سفر کو ایک بندگی (impasse) کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ جب تک وقار کا جھگڑا ختم نہ ہو، ملک کی ترقی کا سفر دوبارہ جاری ہونے والا نہیں۔
تاریخ کا تجربہ ہے کہ اس طرح کا مسئلہ کبھی دو طرفہ بنیاد (bilateral basis) پر ختم نہیں ہوتا۔ اسی قسم کا پیچیدہ مسئلہ جب بھی ختم ہوتا ہے، وہ یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر ختم ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ یک طرفہ اقدام کون کرے۔
حالات کا بے لاگ تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ہندو، کم از کم موجودہ حالات میں، اس یک طرفہ اقدام کے لئے ہرگز تیار نہیں ہو سکتا۔ ہندو و نفسیات کی پیچیدگی یہ ہے کہ ابھی تک وہ "فرسٹ ڈیفیٹ" کا صدمہ لئے ہوئے ہے۔ اور اب چونکہ ملکی نظام میں اس کو بالا دستی (upper hand) حاصل ہے، اس لئے وہ کسی بھی حال میں اس چیز کو قبول کرنے پر راضی نہیں جس کو وہ اپنی موجودہ نفسیات کے تحت اپنے لئے سیکنڈ ڈیفیٹ کا مسئلہ سمجھتا ہے۔
ذہنی انتشار
آج ملک کے تمام ذہن اس معاملے میں سخت سراسیمہ ہیں۔ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ ملک بد ترین تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ مگر جب وہ مسئلہ کا حل معلوم کرنا چاہتے ہیں تو عملی اعتبار سے انھیں کوئی بھی ممکن حل نظر نہیں آتا۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے ہندستان ٹائمس (۳ نومبر ۱۹۹۰) میں قوم کی موجودہ حالت (state of the nation) پر ایک نوٹ شائع کیا ہے۔ اس میں وہ ملک کے موجودہ حالات اور اس پر اپنی گہری تشویش کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ مجھے افسوس ہے کہ میں قارئین کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues