تلخ حقیقت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸
اور آخر کار ذلت کے ساتھ انھیں اقتدار کی کرسیوں سے ہٹا دیا جائے جس طرح پہلے لوگ ہٹا دئیے گئے۔
موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو عمل کا موقع دیا جاتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ قدرت کا قانون یہ بھی ہے کہ جب ایک گروہ سماج کے اندر فساد اور بگاڑ پیدا کرنے لگے تو اس کو ہٹا کر دوسرے گروہ کو اس کی جگہ پر لایا جائے۔ تبدیلیٔ قیادت کا یہ قانون ساری انسانی تاریخ میں برابر جاری رہا ہے۔ اور بلا شبہ ہندوستان قدرت کے اس عمومی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ وقار کی لڑائی ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ یہ ہندوستان کے وقار کے خلاف تھا کہ باہر کی ایک قوم آکر یہاں حکومت کرے۔ چنانچہ اس کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ زبردست قربانیوں کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد ہو گیا۔
اب یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہندوستان کے لوگ ایک ہو کر ملک کو ترقی دینے میں لگ جاتے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آزادی ملک کے بٹوارہ کے روپ میں آئی۔ ملک کے لوگ دو بڑے فرقوں کی صورت میں بٹ گئے ۔ ایک نے مطالبہ کیا کہ ”تقسیم ہند“ دوسرے نے اس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ”اتحاد ہند“ اس حریفانہ سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی وقار کا مسئلہ ملک سے ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد بھی وہ ”ہندو وقار“ اور ”مسلم وقار“ کی صورت میں بدستور باقی رہا۔ ۱۹۴۷ء سے مسلسل یہ صورت حال جاری ہے کہ جب بھی کوئی نزاعی معاملہ پیدا ہوتا ہے تو موجودہ نفسیات کی بنا پر وہ فوراً دونوں فرقوں کے لئے وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ مثلاً ہندوؤں کا ایک جلوس نعرہ لگاتا ہوا مسلم محلہ سے گزرتا ہے۔ اب وہاں کے مسلمان فوراً یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کا ملی وقار مجروح ہو رہا ہے۔ وہ مانگ کرتے ہیں کہ جلوس کی روٹ کو بدلا جائے۔ اس کے بعد ہندو وہ وقار جاگ اٹھتا ہے۔ ہندو سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اپنے جلوس کا راستہ بدلا تو میرا قومی وقار ختم ہو جائے گا۔ اب دونوں طرف سے ضد بڑھتی ہے۔ دونوں اس منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کو قرآن میں حمیت جاہلیہ کہا گیا ہے (الفتح ۲۶ )۔
یہی صورت بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی کے قضیہ میں پیش آئی۔ ۱۹۸۶ء کے بعد جب یہ نزاع
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues