Al-Risala · July 1991 · page 56

ہدایت کا قانون

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۵۶

ہدایت کا قانون

صحیح البخاری (کتاب التفسیر) میں سورہ القصص کے تحت یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے۔ آپ نے دیکھا کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ وہاں موجود ہیں۔ آپ نے ابو طالب سے کہا کہ اے چچا، لا الہ الا اللہ کہہ دیجئے، تاکہ اس کلمہ کی بنا پر میں اللہ کے یہاں آپ کے لیے حجت کر سکوں۔

ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے ابو طالب سے کہا، کیا تم عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دو گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار ابو طالب کے سامنے اپنی بات کہتے رہے اور وہ دونوں بار بار اپنی بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ آخر میں ابو طالب نے کہا کہ عبد المطلب کے دین پر۔ اور انھوں نے لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کیا (حتی قال ابو طالب آخر ما كلمهم: علی ملة عبد المطلب وابی ان یقول لا الہ الا اللہ) روایت کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارہ میں آیت اتاری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ تم جس کو چاہو اس کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں (القصص ۵۶)

اس سے وہ قانون معلوم ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے مقرر کیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ مدعوت خواہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور دلیلوں کے ساتھ بیان کر دی جائے، بہر حال شبہ کا ایک عنصر (element of doubt) پھر بھی اس میں موجود رہے گا۔ دلیل کی کوئی بھی مقدار شبہ کے اس عنصر کو ختم نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ پیغمبر کی شخصیت اور اس کے برتر دلائل بھی ایسا نہیں کر سکتے کہ وہ اپنی دعوت سے شبہ کے اس عنصر کا خاتمہ کر دیں۔

شبہ کے اس پر دہ کو پھاڑنا دعو کا کام ہے، وہ داعی کا کام نہیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے، اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں۔ یہ ہر حال میں انسان کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ شبہ کے اس پر دہ کو پھاڑے تاکہ وہ اس حقیقت کو بے نقاب کو دیکھ سکے۔ شبہ کا پردہ پھاڑنے کے اس امتحان میں جو شخص پورا اترے، وہ اللہ کے قانون کے مطابق ہدایت کو پا لے گا۔ اور جو شخص شبہ کے اس پر دہ کو پھاڑنے میں ناکام رہے، وہ ہدایت کو پانے میں بھی ناکام رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page