Al-Risala · July 1991 · page 6

ہدایت کا قانون

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۶

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ذریعہ ابو طالب کے سامنے دعوت پوری طرح آچکی تھی۔ مگر شبہ کا ایک عنصر پھر بھی ان کے لیے باقی تھا۔ وہ یہ کہ کیا یہ میرا بھتیجا اور عبداللہ کا بیٹا حق پر ہے اور سارے اکابر قوم، بشمول عبدالمطلب، غلطی پر تھے۔ ابوطالب شبہ کا یہ پردہ پھاڑ نہ سکے، اس لیے وہ ہدایت کو قبول کرنے سے بھی محروم رہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ جنت ایک خدائی سودا ہے، اور وہ بہت مہنگا سودا ہے أَلَا إِنَّ سلعة اللہ غالیۃ الا ان سلعة اللہ الجنة)

جو شخص جنت کے اس مہنگے سودے کا خریدار بنانا چاہے، اس کو اس کی مطلوبہ قیمت دینی پڑے گی۔ اس قیمت کی ادائیگی کے بغیر وہ جنت کا مالک نہیں بن سکتا۔ وہ قیمت یہی "شبہ کے عنصر" کو عبور کرنا ہے، وہ شبہ کے اسی پردہ کو پھاڑنا ہے۔ اسی نازک عمل کی ادائیگی پر آدمی کو دنیا میں ہدایت ملتی ہے اور آخرت میں ابدی جنت۔

جنت ان نفیس اور لطیف روحوں کی آبادی ہے جو تمام ظاہری بڑائیوں سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی بُرائی کو پالیں۔ جو جوہر کی بنیاد پر چیزوں کو پہچاننے کا ثبوت دیں۔ جو ہنگامہ کی دنیا سے نکل کر خاموشی کی بزم میں پہنچ سکیں۔ جو ظواہر سے آگے بڑھ کر حقائق کو دیکھ سکیں۔ جو" اکابر" کے گنبدوں سے اوپر اٹھ کر سچائی کو وہاں دریافت کر لیں جہاں وہ بے گنبد حالت میں ظاہر کی گئی ہے ۔ جنت بینا انسانوں کے لیے ہے ، وہ اندھے انسانوں کے لیے نہیں۔ وہ اصحاب معرفت کے لیے ہے، وہ ظاہر پرستوں کے لیے نہیں۔ وہ ارباب اکتشاف کے لیے ہے ، وہ جامد مقلدوں کے لیے نہیں۔ جنت ربانی لوگوں کے لیے ہے ، اور بلاشبہ ربانی لوگوں ہی کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ عظمت صحابہ الرسالة ستمبر ۱۹۹۱ کا شمارہ انشاء اللہ خصوصی شمارہ ہوگا۔ وہ "عظمت صحابہ نمبر کے طور پر شائع کیا جائے گا۔ صاحبانِ دلچسپی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیں تو پیشگی طور پر مطلع فرمائیں۔ (قیمت ۵ روپیہ)

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page