غلط نہی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۸
غلط فہمی
عن عائشة ، انها فقدته صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات کو میں نے ذات ليلة ۔ فظنت أنه ذهب الى بعض نسائه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے اندر نہیں پایا۔ انھوں نے فتحسسته فإذا هو راكع او ساجد گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ يقول : سبحانك اللهم وبحمدك انھوں نے آپ کو تلاش کیا تو انھوں نے نہ پایا کہ آپ مسجد لا إله إلا أنت ۔ فقالت بابي انت و میں رکوع (یا سجدہ) کی حالت میں ہیں اور یہ کہہ رہے امی، انی لفی شأن وانك لفی ہیں کہ اے اللہ تو پاک ہے اور ساری تعریف تیرے شأن آخر ہی لیے ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ (رواه احمد ومسلم والنسائی) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں، میں کسی اور حال میں ہوں اور آپ کسی دوسرے حال میں ہیں۔
حضرت عائشہ نے آپ کو نہ پا کر گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر گئے ہیں ، حالاں کہ آپ خدا کے گھر گیے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ آپ کو کسی بیوی کی یاد آگئی ، حالاں کہ آپ کو خدائے ذوالجلال کی یاد آئی تھی ۔ اسی طرح انسان ظاہر حالات کے اعتبار سے دوسرے شخص کے بارہ میں ایک گمان کر لیتا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ اپنے آپ کو درست سمجھتا ہے ۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خیال محض ذاتی گمان کی بنیاد پر تھا، حقیقت واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔
غلط فہمی ایک ایسی چیز ہے جس میں صحابی کے درجہ کا ایک انسان بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ پھر عام انسان کے لیے تو اس کا امکان اور بھی زیادہ ہے ۔ اس لیے ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ اگر کسی کے بارہ میں اس کو غلط فہمی ہو جائے تو وہ اس کی تحقیق کرے ۔ تحقیق کے بغیر ہر گز اپنی رائے پر اعتماد نہ کرے تحقیق نہ کرنے والا بلاشبہ گنہ گار ہے ۔ اللہ تعالی کے یہاں ایسے آدمی کا کوئی عذر ہر گز نہ سنائے جائے گا۔ وہ اپنے اس جرم میں پکڑ ا جائے گا کہ جب تم کو معاملہ کا پورا علم حاصل نہ تھا تو تم نے کسی بندہ خدا کے بارہ میں ایک بُرا خیال کیسے قائم کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues