غلط نہی
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۷
غلط نہی
عن عائشة ، انها فقد ته صلى الله عليه وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات کو میں نے ذات ليلة - فظنت أنه ذهب الى بعض نسائه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے اندر نہیں پایا۔ انھوں نے فتحسسته فاذا هو راكع او ساجد گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ يقول : سبحانك اللهم وبحمدك انھوں نے آپ کو تلاش کیا تو انھوں نے پایا کہ آپ مسجد لا إله الا أنت - فقالت بابى انت و میں رکوع (یا سجدہ) کی حالت میں ہیں اور یہ کہہ رہے امى، انى لفي شأن وانك لــــفى ہیں کہ اسے اللہ، تو پاک ہے اور ساری تعریف تیرے شأن اخر ہی لیے ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ (رواه احمد وسلم والنسائى) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں، میں کسی اور حال میں ہوں اور آپ کسی دوسرے حال میں ہیں۔
حضرت عائشہ نے آپ کو نہ پا کر گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر گئے ہیں، حالاں کہ آپ خدا کے گھر گیے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ آپ کو کسی بیوی کی یاد آگئی، حالاں کہ آپ کو خدا کے ذو الجلال کی یاد آئی تھی۔ اسی طرح انسان ظاہر حالات کے اعتبار سے دوسرے شخص کے بارہ میں ایک گمان کر لیتا ہے ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ اپنے آپ کو درست سمجھتا ہے۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خیال محض ذاتی گمان کی بنیاد پر تھا، حقیقت واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا ۔
غلط فہمی ایک ایسی چیز ہے جس میں صحابی کے درجہ کا ایک انسان بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ پھر عام انسان کے لیے تو اس کا امکان اور بھی زیادہ ہے ۔ اس لیے ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ اگر کسی کے بارہ میں اس کو غلط فہمی ہو جائے تو وہ اس کی تحقیق کرے ۔ تحقیق کے بغیر ہر گز اپنی رائے پر اعتماد نہ کرے تحقیق نہ کرنے والا بلاشبہ گنہ گار ہے ۔ اللہ تعالی کے یہاں ایسے آدمی کا کوئی عذر ہر گز نہ سنا جائے گا۔ وہ اپنے اس جرم میں پکڑا جائے گا کہ جب تم کو معاملہ کا پورا علم حاصل نہ تھا تو تم نے کسی بندہ خدا کے بارہ میں ایک بُرا خیال کیسے قائم کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues