عید الاضحیٰ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۵
کی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتے۔ قربانی کے بغیر تم اللہ کے مطلوب بندے نہیں بن سکتے۔ عید الاضحیٰ یا عید قرباں حضرت ابراہیم کی زندگی کی یادگار ہے۔ وہ آپ کے ایک تاریخی عمل کی علامتی یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ حضرت ابراہیم نے وہ عمل آخری مثالی صورت میں کیا جس کو اپنی زندگی میں دہرانے کا عہد عید الاضحیٰ کے دن ہر سال کیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم ایک پیغمبر وہ چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے لوگوں کو خدا پرستی اور انسانیت کی طرف پکارا۔ مگر آپ کے بھتیجے کے سوا کسی نے آپ کی بات نہ مانی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تمدن کی مصنوعی زندگی نے لوگوں سے فطری انسانی اوصاف چھین لئے تھے۔ لوگ سطحی باتوں میں مشغول ہو گئے تھے اور گہری باتوں سے انھیں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی تھی۔ اس وقت اللہ کی ہدایت پر حضرت ابراہیم نے ایک نئی نسل تیار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ آپ نے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے جا کر بسادیا۔ وہاں اس وقت انسانی آبادی نہ تھی۔ ہر طرف صرف فطرت کا سادہ ماحول تھا۔ پہاڑ ، صحرا ، کھلے میدان ، سورج ، چاند ، آسمان ، رات اور دن بس اسی قسم کے فطری مناظر تھے جن کے درمیان اسماعیل کو اور ان کی اولاد کو رہنا پڑا۔ اس صحرائی زندگی میں رہنا اپنے آپ کو ذبح کرنے کے ہم معنی تھا۔ کیوں کہ اس وقت وہاں ہر طرف موت کا منظر تھا۔ وہاں اس وقت زندگی کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔ حضرت ابراہیم نے بے آب و گیاہ صحرا میں اس طرح بسا کر اپنے بیٹے کو ذبح کیا۔ وہاں کے مشکل ترین ماحول میں دو ہزار سال تک توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک نئی نسل بن کر تیار ہوگئی جس کو تاریخ میں بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہ نسل تمدن سے کٹ کر خالص فطرت کے ماحول میں تیار ہوئی تھی۔ بنو اسماعیل اس زمانہ میں بالکل نئے قسم کے انسان تھے ۔ مورخین کے بیان کے مطابق، ان میں سے ہر شخص گویا ہیرو تھا۔ ان کے اندر تمام فطری انسانی اوصاف پوری طرح زندہ تھے۔ وہ سچ بولتے تھے، وہ جھوٹ بولنا نہیں جانتے تھے ۔ وہ وعدہ پورا کرتے تھے ، وعدہ خلافی ان کے لئے ناقابل تصور چیز تھی۔ وہ فیاض تھے ، بخیلی کو وہ سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ کمزور کی مدد کرتے تھے ، کمزور کو ستانا یا لوٹنا ان کے نزدیک بہت بڑا جرم تھا۔ وہ جو کچھ کہتے وہی کرتے ، اور وہی کرتے جو انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues