عید الاضحیٰ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۲۶
نے اپنی زبان سے کہا ہے ۔
ی وہ اعلیٰ انسانی گروہ تھا جس نے بعد کو پیغمبرِ اسلام کا ساتھ دیا۔ اسی سے وہ انسانی ٹیم بنی، جس نے دنیا میں پہلی بار آ زادی اور مساوات کا انقلاب برپا کر دیا۔ سوامی ویویکانند نے اپنے لیٹرز میں لکھا ہے انسانی برابری (equality) کا نظام اگر کبھی قابلِ لحاظ درجہ میں کسی مذہب نے قائم کیا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے :
Mr experience is that if ever any religion approached to this equality, it is Islam and Islam alone. (p.379). اسلام نے انسانی مساوات کا جو نظام اپنے دورِ اول میں قائم کیا ، وہ اس نے اسی مذکورہ نسل کے ذریعہ قائم کیا جو عرب کے صحرا میں عظیم الشان قربانی کے ذریعہ تیار کی گئی تھی۔ اس کے اندر فطری انسانی اوصاف زندہ تھے، اسی لئے وہ اس قابل بنی کہ وہ اعلیٰ مقصد کو اپئے اور قربانی دے کر اس کو عملاً قائم کرے۔ یہ تاریخی کارنامہ ایک عظیم قربانی کا کرشمہ تھا۔
عیدِ اضحیٰ کے موقع پر جانور کی جو قربانی کی جاتی ہے، وہ مذکورہ ابراہیمی واقعہ کی یادگار ہے ۔ حضرت ابراہیم نے ایک نئی جاند ارنسل تیار کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کیا۔ عیدِ اضحی کا دن اسی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ عیدِ اضحیٰ کا دن بتاتا ہے کہ زندگی میں کوئی بڑا کام قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ایک نسل تیار کرنا، ایک سماج بنانا، ایک ملک کو آگے بڑھانا، ہر کام اس وقت انجام پاتا ہے جب کہ کچھ لوگ اُس کو اس طرح اپنا مقصد بنائیں کہ اس کے لئے وہ ہر قربانی دینے پر آمادہ ہو جائیں ۔ عیدِ اضحیٰ کے موقع پر جانور کا ذبح کرنا نا اسی ذاتی قربانی کا فدیہ ہے۔ اصل قربانی تو اپنی ذات کی ہے۔ عیدِ اضحیٰ کے دن جو جانور ذبح کیا جاتا ہے وہ ذاتی قربانی کی علامت ہے۔ وہ ذاتی قربانی کا عملی یا علامتی عہد ہے۔ چنانچہ قربانی کرنے والا اگرچہ بظا ہر جانور ذبح کر رہا ہوتا ہے مگر اس وقت وہ اپنی زبان سے جو دعا پڑھتا ہے اس کے الفاظ یہ ہوتے ہیں :
"بے شک میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب کا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ خدایا تو نے ہی دیا ہے اور تجھی کو میں لوٹاتا ہوں ۔ " جانور کی قربانی دراصل ذاتی قربانی کا سبق ہے۔ یہ ذاتی قربانی حضرت ابراہیم نے ایک خاص صورت میں دی۔ حالات کے اعتبار سے وہ مختلف صورتوں میں ہر زمانہ میں مطلوب ہوتی ہے۔ کبھی
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues