Al-Risala · July 1991 · page 34

سفر نامہ امریکہ۔ ۲

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴

میں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات انڈیا میں ہوتے ہیں تو وہاں کے مسلمان ان کے خلاف جلوس و ے ہنگامے کھڑے کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کش مکش بڑھتی ہے جو عمومی فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کے مسلمان، ان واقعات کو نظر انداز کرتے ہیں، اس لئے یہاں عمومی فساد کی نوبت نہیں آتی۔

اشالی و رایک ہندوستانی نوجوان ہیں۔ وہ پچھلے ایک سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میں انھوں نے انگلش اسکول میں تعلیم پائی۔ انگریزی لٹریچر کا کثرت سے مطالعہ کیا۔ اب وہ کافی اچھی انگریزی بولتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی ان کی باتیں سن کر کہتے ہیں کہ تم تو ابھی ایک سال سے امریکہ میں ہو اور تم اتنی اچھی انگریزی بول رہے ہو :

You've only been here a year and you speak English so well!

انھوں نے کہا کہ عام امریکی بیرونی دنیا کے بارہ میں بہت کم جانتا ہے۔ مجھے یہ جان کر سخت دھکا لگا کہ اگر چہ ہم امریکہ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، مگر خود امریکی بقیہ دنیا کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے: It came as a shock to me that, though we knew everything about America, the Americans knew next to nothing about the rest of the world. امریکیوں کا یہی حال اسلام کے بارہ میں ہے۔ عام امریکی اسلام کے بارہ میں کچھ نہیں جانتا۔ ایک امریکی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم نے اسلام کے بارہ میں پہلی بار اس وقت جانا جب ہم نے سنا کہ ایران میں اسلامک ریولیوشن آگیا ہے اور وہاں کی اسلامی گورنمنٹ نے امریکی سفارت خانہ میں کام کرنے والے امریکیوں کو یرغمال (hostage) بنالیا ہے، اور جو لوگ ان کے مخالف ہیں ان کو پکڑ پکڑ کر انہیں گولی ماری جارہی ہے۔

مسلمانوں کو یہ شکایت ہے کہ مغربی میڈیا مسلم دنیا کے صرف برے واقعات کو نمایاں کرتا ہے۔ مگر یہ شکایت بالکل بے معنی ہے کیوں کہ موجودہ دنیا میں ہمیشہ یہی ہوگا ۔ خود مسلمانوں کے اخبار اور رسالے اور کتابوں میں مغربی دنیا کے صرف برے واقعات کو بیان کیا جاتا ہے ۔ پھر ایسی شکایت سے کیا فائدہ۔

اس مسئلہ کا حل شکایت نہیں۔ اس کا حل صرف دو میں سے ایک ہے۔ یا تو مسلمان ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page