Al-Risala · July 1991 · page 36

Seventy per cent, or four out of five Americans,

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۶

میں دونوں ہی گروہوں کو نادان سمجھتا ہوں۔ یہ ایک سطحی طرزفکر ہے کہ کسی شخص یا کسی قوم کو نامزد کرکے کہا جائے کہ بس یہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ تاہم دونوں گروہوں میں ایک فرق ہے۔ ماضی کے ہزارہ گوں جسے جس برطانیہ کو اسلام کا دشمن سمجھا، اس سے انھوں نے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا، مگر حال کے اسلام پسند جس امریکہ کو دشمن بتاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو ڈالر کے عوض عین اسی دشمن کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے ہیں۔

ہماری قیادت کا دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے " ہندو دشمن " سے بچنے کے لئے پاکستان بنایا مگر جب پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ ترقی کے تمام اعلی ذرائع باہر کے " اسلام دشمن " ملکوں میں ہیں۔ چنانچہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے تمام بہترین دماغ مملکت خدا داد سے نکل کر امریکہ جیسے ملکوں میں پہنچ گئے۔ آج پاکستان کے پاس اپنی قوم کا صرف " بھس " ہے۔ اس کا " گندم " تقریبا سب کا سب امریکہ کی سرزمین میں اتر چکا ہے اور اسی طرح دوسرے مغربی ملکوں میں۔

امریکی آدمی اگر آپ کو کسی پارک میں، ہوائی جہاز میں، ایر پورٹ پر یا اور کسی مقام پر ملے تو بظاہر وہ آپ سے بالکل غیر متعلق دکھائی دے گا۔ لیکن اگر آپ اس سے کہیں کہ " معاف کیجئے، کیا میں آپ سے ایک بات پوچھ سکتا ہوں " تو وہ فوراً آپ کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور پوری دلچسپی کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب دے گا۔

ایک امریکی سے میں نے پوچھا کہ کیا امریکی لوگوں کا کیس کھوئی ہوئی روح (Lost souls) کا کیس ہے۔ وہ ہنسا۔ اس نے کہا کہ مشرق کے لوگ ہمارے بارے میں ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقۃ ایسا نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ مگر حال میں نیو واشنگٹن پوسٹ نے اے بی سی (ABC) کے ذریعہ جو اوپی نین پول کرایا ہے، اس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ اس وقت بڑے پیمانے پر ایک قومی مایوسی (national pessimism) میں مبتلا ہے۔ اس پول کے مطابق، ستر فی صد، یعنی ہر پانچ میں سے چار امریکی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا ملک غلط راستہ پر چلا گیا ہے :

Seventy per cent, or four out of five Americans,

feels that their country has gone off on the wrong track. یہ سن کر وہ دیر تک چپ رہا۔ پھر سنجیدگی کے ساتھ بولا کہ ________۔ اس مادی دنیا میں خوشی ہمیشہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page