Seventy per cent, or four out of five Americans,
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۳۷
ایک نہ ملنے والی چیز بنی رہے گی۔ مگر اس کی تلاش کی خوشی بھی بہت قیمتی ہے جس میں آدمی ساری عمر لگا رہے۔ اکثر امریکیوں کا یہی خیال ہے:
Happiness must ultimately remain an elusive commodity in this mortal world but the pleasures of its pursuit are well worth spending a lifetime on. Most Americans seem to believe this. یہ مجبوری بھی کیسی عجیب ہے کہ آدمی خوشی کو تلاش کرنے پر مجبور ہو مگر وہ خوشی کو کبھی پا نہ سکے۔ ۳۰ نومبر کو صغیر اسلم صاحب کے گھر والے نہیں تھے۔ دوپہر کو انھوں نے خود کھانے کا انتظام کیا۔ جدید طرز کے باورچی خانہ میں کھانے کی میز کے سامنے بیٹھ گیا۔ انھوں نے فریج سے سالن نکال کر اس کو پلیٹ میں رکھا اور اس کو گرم کرنے کے لئے مائیکرو ویو اووین (Microwave Oven) کے خانہ میں ڈال کو بند کر دیا۔ اس کے بعد ۶۰ سیکنڈ پر ایڈجسٹ کر کے اس کا سوئچ دبا دیا۔ اب اووین کے اوپر روشن حروف میں الٹا شمار (count down) ہونے لگا۔ ۶۰، ۵۹، ۵۸، ۵۷، ۵۶، ۵۵، اس طرح ایک ایک سیکنڈ گھٹتا رہا۔ یہاں تک کہ زیرو پر پہنچ کر خاص آواز میں ایک سیٹی بجی اور پھر وہاں روشن حروف میں ختم (end) لکھ اٹھا۔
میں نے کہا کہ اسی طرح اللہ تعالی نے انتہائی قطعیت کے ساتھ دنیا کی عمر مقرر کر کے اس کا سوئچ دبا دیا ہے۔ اب ہر لمحہ اس کا کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے ۔ جیسے ہی یہ کاؤنٹ ڈاؤن اپنی آخری گنتی پر پہنچے گا فوراً صور کا خدائی بگل بج جائے گا۔ یہ موجودہ دنیا کے خاتمہ کا اعلان ہوگا۔ اس کے بعد آخرت کی دنیا شروع ہوگی۔ اور پھر خدا کے وفادار بندے کامیاب قرار دئے جائیں گے اور جن لوگوں نے سرکشی کی وہ ناکامیوں کے غار میں دھکیل دئے جائیں گے تاکہ ابد تک اس میں حسرت والم کے ساتھ پڑے رہیں۔ صغیر اسلم صاحب (پیدائش ۱۹۵۱) اس بات کی مثال ہیں کہ ایک شخص اپنے کردار سے اغیار کی نظر میں بھی کتنا زیادہ قابل قدر بن سکتا ہے۔ یہاں میں نے صغیر اسلم صاحب کی ایک فائل دیکھی۔ اس سے ایک بڑی سبق آموز بات معلوم ہوئی۔ اس کا خلاصہ یہاں درج کرتا ہوں۔
امریکہ میں کپڑے کی ایک بہت بڑی ریٹیل کمپنی ہے۔ اس کے بہت سے اسٹور ہیں۔ اس کا نام مروین (Mervyn) ہے۔ اس کو ملک میں پھیلے ہوئے اپنے اسٹوروں کو کپڑا فراہم کرنے کے لئے بڑے پیمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues