Al-Risala · January 1991 · page 33

دوطرفہ مشکل

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۳

وہ اس کے مقابلہ میں بہت ہلکا ہے جو مستقبل میں ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ میرا یقین نہیں ہے کہ ملک میں آئندہ کوئی ایسی چیز ظاہر ہونے والی ہے جس کو معقول سیاسی نظام کہا جا سکے۔ مسلم مسئلہ ہندوؤں کی اس ناکامی کا صرف ایک اظہار ہے کہ وہ ملک میں ایسا سیاسی نظام قائم نہ کر سکے جو ان کی اہلیت اور ملکی ضرورتوں کے مطابق ہو۔ (صفحہ ۲۶ - ۲۷)

مسٹر گری لال جین نے جو بات یہاں کہی وہ بے حد قابل غور ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندو سماج کی بنیاد چار ورن (caste system) پر ہے۔ کاسٹ سسٹم ہندو ازم کا لازمی جزء ہے۔ ہندو ازم کی نفی کی قیمت پر ہی تقسیم انسانیت کے اس اصول کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ ہندو ازم کو مانتے ہوئے اس اصول کا انکار ممکن نہیں۔ کیوں کہ یہ اصول ہندو ازم کی مقدس کتابوں میں واضح طور پر درج ہے۔ مثال کے طور پر رگ وید میں سماج کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ ان کا نیچا اور اونچا ہونا ہے۔ اس کے مطابق برہمن، کشتری، وشیش اور شدر، بالترتیب خدا کے منہ، بازو، ران اور پاؤں سے پیدا ہوئے ہیں۔

برہمن کا کام مذہبی رسوم ادا کرنا ہے، کشتری کا کام فوجی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ وشیش کا کام زراعت کرنا اور شدر کا کام خدمت کرنا ہے۔ (361/EB-X)

ہندو سماج میں یہ تصور کتنی گہرائی کے ساتھ جما ہوا ہے، اس کا ایک مظاہرہ ۱۹۹۰ء میں منڈل کمیشن کے خلاف تحریک کی صورت میں ہوا۔ یہ تحریک اتنی شدید تھی کہ تقریباً ۱۰۰ ہندو نوجوانوں نے خود سوزی کا انتہائی اقدام کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ منڈل کمیشن نے پست طبقہ کے لوگوں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں ۲۷ فیصد رزرویشن دے دیا تھا۔ اوپر کا ہندو طبقہ اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا کہ پست طبقہ کے افراد اس طرح سرکاری سروسوں میں ان کے برابر پہنچ جائیں۔ اونچے طبقہ کے ہندو نوجوانوں نے اس کے خلاف اتنی زبردست تحریک چلائی کہ سابق وزیراعظم وی پی سنگھ کی حکومت ہل گئی۔ یہاں تک کہ ۲ نومبر ۱۹۹۰ء کو مسٹر سنگھ نے اپنے عہدہ سے استعفادے دیا جس نے منڈل کمیشن کی تجاویز کو رائج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کاسٹ سسٹم ہندو قوم کے اتحاد میں ایک ابدی رکاوٹ ہے۔ اس سسٹم کے ہوتے ہوئے ہندو قوم کبھی متحد نہیں ہوسکتی۔ اور جہاں اتحاد نہ ہو وہاں طاقت کا وجود بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues

Printed page