دوطرفہ مشکل
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۴
پھر ہند و قوم میں اتحاد دلانے کا طریقہ کیا ہو۔ صف اول کے ایک ہند و جرنلسٹ (گرمی لال جین) نے اس پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہند و قوم کے پاس متحد ہونے کی کوئی مثبت بنیاد موجود نہیں ۔ وہ صرف منفی جذبہ کی بنیاد پر متحد ہو سکتی ہے ۔ اور یہ منفی جذ بہ موجودہ حالات میں صرف مسلم دشمنی ہے۔ موصوف نے لکھا ہے کہ ہم اینٹی مسلم احساس کو بھڑکا کر ہی ہند وؤں کو متحد کر سکتے ہیں۔ مگر منفی بنیاد پر پیدا کیا جانے والا اتحاد کبھی مثبت فائدہ کا سبب نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کا اتحاد تخریبی نتیجہ دکھا سکتا ہے مگر وہ تعمیری کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔
مسٹر گرمی لال جین نے ہند و سماج کی اس مشکل کا ذکر (ٹائمز آف انڈیا ۲۳ جولائی ۱۹۸۷) کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس طرح ہم دو طرفہ مشکل میں مبتلا ہیں۔ کیوں کہ جو چیز ممکن ہے وہ مطلوب نہیں اور جو چیز مطلوب ہے وہ ممکن نہیں:
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہند و سماج کتنی زیادہ بے بسی کی حالت میں ہے۔ وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ اس کو کھڑا ہونے کے لئے لازمی طور پر ایک خارجی سہارا درکار ہے۔ اگر یہ خارجی سہارا موجود نہ ہو تو اس کی دیوار اپنے آپ گر پڑے گی، بغیر اس کے کسی نے براہ راست طور پر اس کو گرانے کی کوشش کی ہو۔
مسلمانوں کے نادان لیڈر بابری مسجد تحریک کو حد تناسب سے باہر لے گئے۔ انھوں نے بابری مسجد کے نام پر دھواں دھار تحریک چلا کر ہند وؤں کو یہی سہارا فراہم کر دیا۔ ہند وؤں کے انتہا پسند لیڈروں نے مسلمانوں کے پر جوش قائدین کے لفظی طوفان کو بھر پور طور پر استعمال کیا۔ انھوں نے اس کے ذریعہ سے اپنی قوم میں اینٹی مسلم فیلنگ پیدا کر دی۔ وہ چیز جس کو ہند و لہر (Hindu wave) اور ہند و اتحاد کہا جاتا ہے، وہ تمام تر اسی اندھی اینٹی مسلم فیلنگ پر کھڑا ہوا ہے جس کا موقع خود ہمارے نادان لیڈروں نے ۱۹۸۶ اور ۱۹۹۰ کے درمیان اپنی سطحی کار روائیوں کے ذریعہ فراہم کیا۔ عبرت ناک بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر مسٹر لال کرشن آڈوانی کی رتھ یاترا یکم اکتوبر ۱۹۹۰ کو سومناتھ سے شروع
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues