Al-Risala · July 1991 · page 44

Because the T.V. is never too busy for them.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴

نہ تھی۔ دور کے کسی مکان سے کتا بھونکنے کی آواز آ رہی تھی اور کبھی کبھی کوئی کار قریبی سڑک سے گزر جاتی تھی۔

پارک نہایت خوبصورت تھا۔ ہندوستان کے پارکوں سے وہ اتنا ہی مختلف تھا جتنا خود امریکہ ہندوستان سے۔ اس کو دیکھ کر مجھے وہ خوب صورت تر پارک یاد آیا جو پچھلے دن میں نے ٹی وی میں دیکھا تھا۔ صدر امریکہ مسٹر جارج بش یہاں کا خصوصی تیوہار تھینکس گونگ (Thanksgiving) اپنے فوجیوں کے ساتھ منانے کے لئے خلیج عرب گئے تھے۔ واپسی میں ان کا خصوصی جہاز واشنگٹن میں اترا۔ جہاز سے نکل کر وہ ایک نہایت خوب صورت پارک سے خراماں خراماں چلتے ہوئے ایک شاندار مکان میں داخل ہو گئے۔

ٹی وی پر یہ منظر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ موت کا فرشتہ اسی طرح ایک روز آدمی کے پاس آئے گا۔ اس کے ساتھ ایک سواری ہوگی۔ وہ آدمی کو سواری پر بٹھا کر دنیا سے آخرت کی طرف روانہ ہوگا۔ عالم آخرت میں یہ سواری یا تو ایک سر سبز پارک کے کنارے اترے گی۔ آدمی سواری سے نکلے گا اور خوشی خوشی اس پارک سے گزرتا ہوا اپنے جنتی مکان میں داخل ہو جائے گا۔ یا پھر اس کی سواری ایک خشک بیابان میں اترے گی، وہ سواری سے باہر آئے گا تو وہ پائے گا کہ وہاں اندھیروں اور خاردار وادیوں کے سوا کوئی اور چیز اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود نہیں۔

اس وقت آسمان مکمل طور پر صاف تھا۔ سورج کی سنہری روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ پارک کے چاروں طرف سر سبز درختوں سے ڈھکے ہوئے خوبصورت مکانات دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ دنیا بے حقیقت ہونے کے باوجود اتنی زیادہ حسین ہے کہ خدا کی خاص توفیق ہی سے کوئی شخص اس کے مسحور کن فتنے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس وقت مجھے بے ساختہ فانی بدایونی کا یہ شعر یاد آگیا:

فریب جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھاپایا اس کے بعد میں تقریباً روزانہ پارک میں جانے لگا۔ یہاں مختلف قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ ۲۸ نومبر کی سہ پہر کو میں ایک پارک میں کھڑا ہوا تھا۔ اس کے ایک حصہ میں بچوں کے کھیل

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page