Al-Risala · July 1991 · page 45

Uncle, push me.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۵

کا سامان لگا ہوا ہے۔ ایک سفید فام بچہ تقریبا تین سال کا، آیا اور ایک جھولے پر چڑھ گیا۔ یہ جھولا ایسا تھا جس کو ہلانے کے لئے کوئی دوسرا آدمی درکار تھا۔ بچے نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ کہا۔ ابتدائے میری سمجھ میں نہیں آیا۔ اس نے کئی بار کہا تو میری سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہا ہے ۔ چچا، مجھے دھکا دو :

Uncle, push me.

میں اس کے قریب گیا اور اس کو جھولا جھلانے لگا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد اس نے میرا نام پوچھا۔ اس نے کچھ اور کہا جو لہجہ کے فرق کی وجہ سے میری سمجھ میں نہ آسکا۔ پارک میں جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، میرے ہاتھ میں امریکہ کے ایک منتھلی میگزین سن سٹ (Sunset) کا شمارہ دسمبر ۱۹۹۰ تھا۔ اس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا تھا ۔ مغربی طرز زندگی کا میگزین :

The magazine of Western living

۱۹۰ صفحہ کے اس انگریزی میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ اس کا چار صفحہ (۵۲-۴۷) بگڑے ہوئے بچوں کے اسکول (Schools for troubled teens) کے بارہ میں تھا۔ ان صفحات میں تقریباً چار درجن ایسے اسکولوں کے اشتہارات درج تھے۔ اس وقت امریکی خاندانوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ والدین کے پاس اپنے بچوں کی تربیت اور نگہداشت کے لئے کوئی وقت نہیں۔ ان کا بیشتر وقت یا تو دفتروں میں گزرتا ہے یا اگر چھٹی ہو تو ” آوٹنگ “ میں ۔ چنانچہ بچے خود رو پودے کی طرح اگ رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بچوں کی پوری نسل خراب ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ اسکول ان بچوں کی پروفیشنل رہنمائی (professional guidance) کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ایک اشتہار کا مضمون یہاں نقل کیا جاتا ہے :

We Rescue Teenagers: The most effective option for parents who need help with teens who are out of control, irresponsible, depressed, during and alcohol dependent, failing school, irresponsible, depressed, drug and alcohol dependent, failing school, running with the wrong friends, unmotivated, undisciplined and who lack real self-esteem.

‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues

Printed page