The magazine of Western living
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۱، صفحہ ۴۹
الرساله اور آپ کی کتابوں نے مجھے شک و شبہات کے اندھیرے غار سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں پہنچا دیا۔ مجھے آپ کی یہ لائن یاد ہے کہ ہمیں پروگرام نہیں بنانا ہے بلکہ پروگرام ساز افراد بنانا ہے۔ مجھے یہ لکھنے میں جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ آپ کی تحریروں کو سمجھنے کے لئے انٹلیکچول برین ہونا چاہئے۔ (الطاف حسین انجینئر، کشمیر)
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں الرساله کا تین سال سے مطالعہ کر رہا ہوں ۔ اللہ پاک کے کرم سے اس مشن کے ذریعہ میری زندگی خاص انداز میں ڈھل گئی۔ اعراض کے معاملہ میں وہ کچھ پایا جس کی امید نہ تھی کیوں کہ اعراض کا معاملہ پہلے سے معلوم نہ تھا۔ جو لوگ حقیقی طور پر اس خدائی پیغام کو قبول کرتے ہیں ان کی زندگی دنیاوی خوف و خطر سے خالی ہو جاتی ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھ سے کشمیر میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ الرسالہ کے مطالعہ سے روز بروز میرے اندر صبر و اعراض کی قوت بڑھ رہی ہے۔ یہ تو ایک دنیاوی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا اور دوسرے ایمان اور یقین کے بقا کے لئے نہایت اہم ہے (حاجی رفیق احمد، کشمیر) " اقوال حکمت " کا ہندی اور انگریزی ترجمہ ہو گیا ہے۔ اس وقت وہ زیرِ طباعت ہے۔ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ جو شخص اس کا قاری بنتا ہے اس کے اندر یہ جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کو پھیلائے۔ ہزاروں لوگ اس طرح الرسالہ کو خود پڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی پڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بی امان اللہ صاحب (بنگلور) الرسالہ کے پیغام سے متاثر ہوئے تو انہوں نے اپنے حلقہ میں تقریباً تین درجن لوگوں کو الرسالہ کا خریدار بنایا۔ اس میں انگریزی ریڈر اور اردو ریڈر دونوں شامل ہیں۔
عبد اللہ حسن چودھری صاحب (احمد نگر) لکھتے ہیں : اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کے مضامین نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی ذہنوں کو اپیل کر رہے ہیں۔ اور ایک نئی ذہنی اور اخلاقی بیداری میں معاون بن رہے ہیں۔ ایک تازہ مثال یہ ہے کہ رمضان کے اوقات سحر و افطار کا ایک ہزار پمفلٹ ہمارے ادارہ کی جانب سے چھپوایا گیا ۔ اس میں " اسلامی تعلیمات" سے اقتباس ہندی زبان میں شائع کیا گیا ہے۔ آپ کی تحریر کو اتنا پسند کیا گیا کہ دوسرے اداروں اور اشخاص نے بھی اپنی طرف سے جو سحر و افطار کے پمفلٹ چھپوائے، انھوں نے بھی اس میں یہی تحریر چھپوائی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1991 All issues