Al-Risala · August 1991 · page 4

ایک سنت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴

ایک سنت

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے۔ مفسرین نے اس واقعہ کو معوذتین کی تشریح کے تحت تفسیر کی کتابوں میں نقل کیا ہے۔

اس کا خلاصہ یہ ہے مدینہ میں ایک شخص لبید بن اعصم نام کا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک ماہر جادوگر تھا۔ شہر میں خیبر کے کچھ یہودیوں نے اس آدمی کو تین سنہری سکہ دے کر اس پر راضی کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عمومی طاقت ور جادو کرے۔ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال اور آپ کی کنگھی کے کچھ دندانے حاصل کیے۔ اس پر اس نے جادو کا عمل کیا اور اس کو ایک نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں لپیٹ کر بنوزریق کے کنویں کی تہ میں رکھ دیا۔ اس کنویں کا نام ذروان تھا۔ یہ سارا معاملہ اس نے نہایت راز داری کے ساتھ کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چند دن تک اس جادو کے کچھ اثرات رہے۔ آپ کو اس سے شدید تکلیف بھی محسوس ہوئی۔ آپ نے اللہ تعالی سے دعا فرمائی۔ اس کے بعد فرشتے نے آکر آپ کو پورے معاملہ کی خبر کر دی۔ آپ نے مذکورہ کنویں میں سے جادو کا سامان نکلوایا اور اس کو ضائع کر دیا۔ اس کے ساتھ اللہ تعالی نے آپ کو تعلیم کی کہ آپ قرآن کی دو سورہ (معوذتین) پڑھا کریں اس سے آپ اس قسم کے تمام فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کا استیصال کرنے پر اکتفا فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ کیوں کہ اندیشہ تھا کہ اگر اس شرارت کو عام مسلمانوں نے جان لیا تو وہ لبید بن اعصم کے ساتھ نہایت برا معاملہ کریں گے۔ راوی کہتے ہیں:

فَقُلْتُ: افلا تنشّرت - فقال اما الله فقد میں نے کہا کہ آپ نے اس بات کا چرچا کیوں نہیں کیا کہ آپ شفانى واكرہ ان اشير على أحد من نے فرمایا کہ جہاں تک جادو کا تعلق ہے تو اللہ نے مجھے الناس بشرا (اخرجہ البخاری درواہ مسلم واحمد بشکل) اس سے شفا دیدی اور میں اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ لوگوں میں سے کسی شخص کے خلاف شر بھڑکاؤں۔

مومن کی دلچسپی مسئلہ کو ختم کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ مسئلہ پیدا کرنے والے شخص کو بدنام کرنے سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page