امامت کا مسئلہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۶
کی تحریریں پڑھیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ آپ کی باتوں سے مجھے اتفاق ہے۔ مگر میری سمجھ میں اب تک یہ نہ آسکا کہ آپ کا عملی پروگرام کیا ہے۔
مذکورہ نوجوان کی بات سن کر میں نے کہا: ہر نامہ جنا ہوا عداد نمبر محبین (ہمارا پروگرام یہ ہے کہ ہم پروگرام بنانے والے انسان تیار کریں، الرساله فروری ۱۹۹۰ء، صفحہ ۴ موجودہ زمانہ اسلام کے احیاء کا زمانہ ہے۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام کو دوبارہ ایک زندہ اور غالب طاقت کی حیثیت سے اٹھایا جائے ۔ اس احساس کے تحت موجودہ زمانہ میں سیکڑوں بڑے بڑے رہنما اٹھے۔ ہر ایک کو غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے ہر ایک کی کوششیں صفر ہو کر رہ گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ہر ایک نے ” عملی پروگرام “ سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ مگر عملی پروگرام سے کام کا آغاز کرنا ایسا ہی ہے جیسے باغ لگانے کا آغاز پھل کاٹنے سے کیا جائے۔
اسلام کا احیاء ایک بے حد سنجیدہ اور بے حد دور رس کام ہے۔ یہ کام دھواں دھار جلسوں اور پُر شور اقدامات کے ذریعہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے سب سے پہلے افرادکار مطلوب ہیں۔ اس کے لیے ایسے باشعور افراد کی ضرورت ہے جو خود اپنی ذات میں پروگرام ساز ہوں، جو اپنے حالات کو سمجھ کر خود کام کا منصوبہ بنائیں۔ جب تک ایسے افراد تیار نہ ہو جائیں، عملی پروگرام یا عملی اقدام کی حیثیت بے فائدہ چھلانگ کے سوا اور کچھ نہیں۔ سطحی لوگ مظاہرہ کو کام سمجھتے ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی شخص منظر ہراتی ہنگامہ کرتا ہے تو لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کام کر رہا ہے۔ حالانکہ اس قسم کا کام بے فائدہ اچھل کو د ہے۔ اس کا کوئی حقیقی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔ زندگی میں اصل اہمیت افراد کی ہوتی ہے۔ اس لیے اصل کام یہ ہے کہ افراد تیار ہو جائیں۔ اسلام کا احیاء کا کام اس سے زیادہ وسعت کا ہے کہ وہ کسی رنگے بندھے پروگرام کے ذریعہ انجام
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues