دوطرفہ مشکل
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۱، صفحہ ۳۵
ہوئی ۔ اس کو دس ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے اجودھیا پہنچنا تھا ۔ ۱۶ اکتوبر کو وہ دہلی میں داخل ہوئے ۔ یہاں انھوں نے زبردست میٹنگ کی ۔ اس میں انھوں نے اعلان کیا کہ ہمارا " رام رتھ " ضرور اجودھیا پہنچے گا اور ہم جنم بھومی پر رام مندر بنا کر رہیں گے ۔ کوئی طاقت ہم کو اس سے روک نہیں سکتی ۔ دہلی کے انگریزی اخبار اسٹیٹس مین ( ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۰ ) میں اس میٹنگ کی پوری تفصیل چھپی ہے۔ مسٹر آڈوانی نے جو کچھ کہا ، اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے وشو ہندو پریشد کے ساتھ اپنا وزن صرف اس وقت ڈالا جب کہ ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی بنائی گئی اور اس کمیٹی نے اس مسئلہ کو ایک عوامی مسئلہ بنا دیا :
BJP had thrown its weight behind the Vishwa Hindu Parishad only when the Babri Masjid Action Committee had been formed in 1986 and made it a public issue. (p.9)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بابری مسجد کے نام پر آل انڈیا سطح کی ایکشن کمیٹی بنانا اور اس مسئلہ کو عوامی مسئلہ کی حیثیت سے چاروں طرف پھیلانا ، یہ اصل مسئلہ کے حل میں صرف ایک رکاوٹ تھا ۔ کیوں کہ اس نے ہندوؤں میں جوابی تحریک پیدا کی اور ہندو زیادہ بڑی تعداد میں رام جنم بھومی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو تو کچھ نہیں دیا۔ البتہ اس نے ہندو قوم کے لئے اتحاد کی بنیاد فراہم کر دی۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ نفرت دو طرفہ بنیاد پر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے ۔ فریقین میں سے ایک شخص اگر اپنا ہاتھ ہٹا لے تو تالی کا بجنا اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ موجودہ ہندو اتحاد نفرت کی زمین پر قائم ہے ، اور یہ نفرت کی زمین اس کو مسلمانوں کی طرف سے مل رہی ہے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اپنے " ہاتھ " کو یک طرفہ طور پر سامنے سے ہٹا دیں ۔ اس کے بعد تالی کا بجنا اپنے آپ بند ہو جائے گا ۔ اس کے بعد نفرت کے غبارہ کی ہوا خود بخود نکل جائے گی ، اور پھر جو فضا بنے گی وہ عین اسلام اور مسلمانوں کے حق میں ہوگی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1991 All issues