Al-Risala · August 1991 · page 11

دو گروه

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۱

ایک تقابل

پرنسپل نرنجن سنگھ (ایس سی (۱۸۹۳-1973) ماسٹر تارا سنگھ کے بھائی تھے۔ وہ نئی دہلی (ایسٹ پٹیل نگر) میں رہتے تھے۔ ۱۱ اگست 1973کو ان سے میری تفصیلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کی روداد الجمعیۃ دہلی (۳۱ اگست ۱۹۷۲) میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کا ایک جزء یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ امرتسر میں ۱۹۱۹ میں آل انڈیا کانگریس کا سالانہ اجلاس، پرنسپل نرنجن سنگھ اس میں شریک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں بال گنگا دھر تلک، موتی لال نہرو، اپنی بسنت اور دوسرے بڑے بڑے قومی لیڈر موجود تھے۔ مہاتما گاندھی بھی اگرچہ اس اجلاس میں شریک تھے۔ مگر بظاہر وہ اتنے غیر دکھائی دیتے تھے کہ اسکول کے لڑکوں نے جب دوسرے شاندار لیڈروں کے ساتھ انھیں اسٹیج پر بیٹھا ہوا دیکھا تو کہا:یہ یہ گھاس کاٹنے والا کہاں سے آگیا۔

تلک نے اس اجلاس میں کامل آزادی کا ریزولیوشن پیش کیا ۔ دوسرا ریزولیوشن گاندھی کا تھا۔ اس میں ڈومینین اسٹیٹس کی تجویز رکھی گئی تھی۔ دونوں کی تقریروں کے بعد ووٹنگ ہوئی تو گاندھی جی کو ۶۱۲ ووٹ اور تلک کو ۱۲۳ ووٹ ملے۔ گاندھی جی کا ریزولیوشن کثرت رائے سے منظور ہو گیا۔ پرنسپل نرنجن سنگھ نے یہ قصہ بتانے کے بعد کہا کہ تلک کے مقابلہ میں گاندھی جی کی یہ جیت اس وقت بڑی حیرت ناک تھی۔ اسٹیج سے جب نتیجہ کا اعلان کیا گیا تو لڑکوں نے دوبارہ نعرہ لگایا : وہ گھسیارہ جیت گیا ، وہ گھسیارہ جیت گیا ۔

بال گنگا دھر تلک ایک انقلابی ذہن کے آدمی تھے۔ وہ ہمیشہ بلند بانگ انداز (high-profile) میں بولتے تھے۔ گاندھی جی اس کے برعکس ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے۔ وہ دھیمے انداز (low-profile) میں کلام کرتے تھے۔ چنانچہ تلک (اور مسلمانوں کے اکثر لیڈر پہلے ہی مرحلہ میں یہ چاہتے تھے کہ انگریزوں سے کامل آزادی کی مانگ کریں۔ جب کہ گاندھی جی حالات کی رعایت کرتے ہوئے تدریجی انداز میں آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ ابتدائی مرحلہ میں بہت سے لوگوں کو تلک جیسے افراد عظیم معلوم ہوتے تھے اور گاندھی جی بظاہر

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page