رد و قبول
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۲
رد و قبول
۱۹۶۵ء کا واقعہ ہے۔ ایک ہندوستانی لڑکا ملک کے ایک گورنمنٹ کالج میں داخلہ کی درخواست دینے کے لیے گیا۔ اس کو جو ایڈمیشن فارم دیا گیا، اس میں دوسری باتوں کے علاوہ ریلیجن اور کاسٹ کا خانہ بھی موجود تھا۔ لڑکے نے فارم کے تمام خانے بھرے، مگر ریلیجن اور کاسٹ کا خانہ اس نے سادہ چھوڑ دیا۔ اس نے جب اپنا فارم دفتر میں دیا تو کاؤنٹر کلرک نے دیکھنے کے بعد اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اور اس کی وجہ، کلرک کے الفاظ میں یہ تھی کہ اس کا فارم نامکمل (incomplete) ہے۔ خبر کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ـ (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی ، ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۰، صفحہ ۱۰)
لڑکے کی درخواست داخلہ کو رد کرنے کا یہ سبب بالکل نکمّن تھا، وہ کوئی حقیقی سبب نہ تھا۔ مگر موجودہ دنیا میں ہر روز یہی قصہ پیش آ رہا ہے۔ یہاں روزانہ بے شمار لوگ صرف اس لیے رد کر دیے جاتے ہیں کہ وہ انسان کے بنائے ہوئے "نکمّن معیارهای پر پورے نہیں اترے تھے۔ اس دنیا میں رد و قبول کے فیصلے حقیقی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ صرف مصنوعی بنیاد پر تمام فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ معیاری دنیا میں ایک غیر معیاری صورت حال ہے جو آج ہر طرف دکھائی دے رہی ہے۔ یہ خدا کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ خدا صرف مصلحت امتحان کی بنا پر اس کو گوارا کر رہا ہے۔ جیسے ہی خدا کی مقرر کی ہوئی مدت امتحان پوری ہوگی، خدا اچانک سارے نقشے کو بدل دے گا۔ اس کے بعد خدا کی عدالت قائم ہوگی۔ یہ عدالت تمام لوگوں کے بارہ میں حقیقی بنیادوں پر فیصلہ کرے گی۔
جس طرح آج کوئی رد کیا جا رہا ہے اور کوئی قبول کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح آخرت میں کوئی قبول کیا جائے گا اور کسی کو رد کر دیا جائے گا۔ مگر فرق یہ ہے کہ آج کا فیصلہ انسان کے بنائے ہوئے مصنوعی معیار پر کیا جا رہا ہے، اور آخرت کا فیصلہ خدا کے مقرر کیے ہوئے حقیقی معیار پر ہوگا۔
اس وقت کتنے لوگ جن کو "داخلہ" دے دیا گیا تھا، وہ نکال کر باہر کر دیے جائیں گے۔ اور کتنے لوگ جو داخلہ سے محروم کر دیے گئے تھے، ان کی بابت حکم ہوگا کہ ان کے لیے ابدی رحمتوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues