حقیقی عمل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۶
چپ ہونا آخر کار دوسرے شخص کو بھی چپ ہونے پر مجبور کر دے گا۔
دونوں صورتوں میں یہ فرق کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب برا کرنے والے کا جواب برائی سے دیا جائے تو اس کے اندر رد عمل کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اب شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اس کی انا کو جگائے۔ وہ اس کے غصہ کو بڑھا کر اس کو آخری درجہ تک پہنچادے۔ وہ برائی جو اس کے اندر سوئی ہوئی تھی، وہ پوری طرح جاگ کر آپ کے بالمقابل کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب برا کرنے والے کے ساتھ اعراض کا معاملہ کیا جائے تو اس کے اندر خود احتسابی کی نفسیات جاگتی ہے۔ اب فرشتہ کو موقع ملتا ہے کہ وہ آدمی کی فطرت کو بیدار کرے، وہ اس کے ضمیر کو متحرک کرنے کی کوشش کرے۔ وہ اس کے اندر شرمندگی کا جذبہ پیدا کرے۔ وہ اس کو اپنی اصلاح پر ابھارے۔
پہلی صورت میں آدمی شیطان کے زیر اثر چلا جاتا ہے اور دوسری صورت میں فرشتہ کے زیر اثر ۔ ایک واقعہ کی صورت میں دوسرے کو ملزم ٹھہرا کر اس سے انتقام لینے کے جذبات بھڑکتے ہیں اور دوسرے واقعہ کی صورت میں اپنے کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی اصلاح کرنے کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔
ہر آدمی کے سینہ میں دو طاقتیں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک طاقت آپ کی موافق ہے جس کی نمائندہ آدمی کا ضمیر ہے۔ دوسری طاقت آپ کی مخالف ہے۔ اس کی نمائندہ آدمی کی انا ہے۔ اب یہ آپ کے اپنے اوپر ہے کہ آپ دونوں میں سے کس طاقت کو جگاتے ہیں۔ آپ اپنے قول وعمل سے جس طاقت کو جگائیں گے وہی آپ کے حصہ میں آئے گی۔
ایک طاقت کو جگانے کی صورت میں فریق ثانی آپ کا دشمن بن جائے گا۔ اور اگر آپ نے دوسری طاقت کو جگایا تو خود فریق ثانی کے اندر ایک ایسا عنصر نکل آئے گا جو آپ کی طرف سے عمل کر کے اس کو آپ کے مقابلہ میں مغلوب و مفتوح بنا دے۔
مذکورہ واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی پر غصہ نہیں ہوئے جو بد کلامی کر رہا تھا۔ مگر حضرت ابو بکر صدیق کی زبان سے برا کلمہ نکلا تو آپ غصہ ہو گئے ۔ غصے کے لیے شریعت میں اعراض کا اصول ہے اور انسان کے لیے امر بالمعروف کا اصول۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues