حقیقی عمل
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۵
وتبسم ، فاما اكثر رد عليه بعض قَوْلِهِ، ، فغضب النبي صلى الله عليه وسلم ، وقام ، فلحقه ابوبكر ، وقال : يارسول الله كان يشتمني وانت جالس ، فاما رددت عليه بعض قوله غضبت وقمت قال : كان معك ملك يردعليه ، فاما رددت عليه وقع الشيطان ( رواه احمد )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو بکر کو برا کہا (حضرت ابو بکر چپ رہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا ر ہے تھے۔ پھر جب اس شخص نے بہت زیادہ کہا تو حضرت ابو بکر نے اس کی بعض باتوں کا جواب دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر چل کر آپ سے ملے اور کہا کہ اے خدا کے رسول وہ آدمی مجھ کو برا کہہ رہا تھا اور آپ وہاں بیٹھے ہوئے تھے (اور خوش تھے) لیکن جب میں نے اس کی بعض بات کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ (جب تم چپ تھے) تو تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا ۔ مگر جب تم نے خود اس کی بات کا جواب دیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان آگیا۔
ایک آدمی آپ کو برا کہے ۔ اس کے جواب میں آپ بھی اس کو برا کہیں تو بات بڑھتی ہے۔ جس آدمی نے پہلے صرف ایک سخت لفظ کہا تھا۔ اس کے بعد وہ سب وشتم پر اتر آتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے آپ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں پتھر اٹھا لیتا ہے۔ آپ کا جواب نہ دینا اس کو ابتدائی حد پر روک دیتا ہے ، اور آپ کا جواب دینا اس کو اس کی آخری حد پر پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بجائے اگر ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کو برا کہے یا گالی دے مگر آپ خاموش ہو جائیں، آپ مشتعل انگیز کلام کے باوجود اشتعال نہ ہوں، تو آپ دیکھیں گے کہ اس کا لہجہ آہستہ آہستہ دھیما ہو رہا ہے۔ اس کی گردار پرکی سو ائکلنا شرو ع ہو جائیگی ، یہاں تک کہ وہ دھیرے دھیرے وہ داہنہ آجاے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues