صبر کا ہتھیار
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۸
کو ڈانٹا اور بگڑنا شروع کرے تو ابتداءً آپ اس کے وار کو خالی کر دیں، یعنی بالکل چپ ہو کر اس کی بات کو سنتے رہیں یہاں تک کہ جب اس کے الفاظ ختم ہو جائیں اور اس کی بھڑاس نکل جائے، اس وقت سنجیدگی کے ساتھ صورت حال کے بارہ میں اس کو بتائیں۔ اگر آپ ابتدا میں اس قسم کا صبر دکھائیں تو آپ یقیناً کامب رہیں گے۔ کیوں کہ اب وہ اپنے ہتھیار کی " تین گولیاں " ختم کر چکا ہے اور اب بہت آسانی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ہیں جو آپ کے خلاف متحد ہو کر آگئے ہیں اور آپ کو ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ غور کیجیے تو یہ ات صرف اس بنیاد پر ہوگا کہ آپ ان کے سامنے ان کے حریف بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر آپ حکمت عملی کا طریقہ اختیار کریں اور کچھ دیر کے لئے اپنے کو نشانہ نہ بنا دیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کا اتحاد ٹوٹ رہا ہے۔ ان کے اتحاد کے ہتھیار کی گولی آپ کا حریف بن کر کھڑا ہونا تھا۔ جب آپ نے اپنے کو حریف کے مقام سے مٹا دیا تو گویا یا آپ نے ان کی تینوں گولیاں خالی کرا دیں۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ منتشر ہو جائیں گے اور جو گروہ اختلاف اور انتشار میں پڑ جائے اس کو ختم کرنے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے کو ختم کر لیتا ہے۔
کوئی حریف جب سامنے آتا ہے تو آدمی جوش میں آکر اس سے لڑنے لگتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں وہ حریف کی طاقت کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اگر آدمی صبر اور دوش مندی سے کام لے اور مقابلہ کے ابتدائی مرحلہ میں حریف کے وار کو خالی جانے دے تو بہت جلد ایسا ہو گا کہ حریف خود اپنی کارروائیوں کے نتیجہ میں اپنے کو غیر مسلح کر چکا ہوگا۔ یاد رکھئے، کوئی بھی شخص جو آپ کے مقابلہ میں آتا ہے اس کے پاس ہمیشہ "تین" ہی گولیاں ہوتی ہیں۔ لا تعداد گولیاں کسی کے پاس نہیں ہوتیں۔ اگر آپ یہ ہوشیاری دکھائیں کہ مقابلہ کے آغاز میں کسی طرح اپنے کو نشانہ سے ہٹا لیں تو اس کے بعد یقینی طور پر ایسا ہوگا کہ دشمن اپنی " تین گولیوں " کو ختم کر کے خالی ہاتھ ہو چکا ہوگا۔ اب زیادہ بہتر طور پر وہ وقت آجائے گا کہ آپ اس کو زیر کر سکیں۔ یہ کامیابی ہر ایک حریف کے اوپر حاصل کی جاسکتی ہے۔ بشر طیکہ مقابلہ پیش
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues