I am in hurry, but God isn't
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۱۹
نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کے سامنے بے تابی کے ساتھ ٹہل رہے ہیں۔ آج میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں ، آخر کیا بات ہے؟ اس نے پوچھا۔ عیسائی دوست اچانک سنجیدہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا:
I am in hurry, but God isn't
میں جلدی چاہتا ہوں، مگر خدا جلدی نہیں چاہتا ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صحن میں ایک مرجھائے ہوئے آم کے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : میں نے اس کو بڑی امیدوں کے ساتھ پچھلے ہفتہ لگایا تھا ۔ مگر اب وہ سوکھ کر ختم ہو چکا ہے۔
" یہ درخت تو کافی بڑا ہے، پھر ایک ہفتہ پہلے کیسے آپ نے اس کو لگایا تھا ؟ آدمی نے پوچھا۔ " یہی تو اصل بات ہے" عیسائی دوست نے کہا " میں نے چاہا کہ میں اچانک ایک بڑا درخت اپنے یہاں کھڑا کر دوں ۔ مگر خدا کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ میں نے آم کا چھوٹا پودا بونے کے بجائے یہ چاہا کہ پانچ سال کا درخت لا کر اپنے صحن میں لگاؤں اور اس طرح پانچ سال کا سفر ایک دن میں طے کر لوں۔ میں نے درخت تو کہیں نہ کہیں سے لا کر لگالیا۔ مگر وہ اگلے ہی دن سوکھ گیا ۔ اور اب اس کی جو صورت ہے وہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔
اس کے بعد عیسائی دوست نے کہا : اس دنیا میں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے خدا کا ایک قانون ہے۔ ہم اس قانون کی پیروی کرکے ہی اس چیز کو اپنے لئے وجود میں لا سکتے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے اصول کی پیروی نہ کریں اور اپنی خواہشوں پر چلنے لگیں تو ہمارے حصہ میں " سوکھا درخت " آئے گا نہ کہ " ہرا بھرا باغ " ۔
لکڑی کی ایک کشتی کی تاریخ اگر چھوٹے پودے سے شروع کی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر کشتی والا انتظار کرتا ہے کہ قدرت ایک درخت اگائے۔ زمین و آسمان کے تمام انتظامات
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues