Al-Risala · August 1991 · page 20

I am in hurry, but God isn't

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۰

جب مسلسل عمل کے نتیجہ میں ننھا پودا پختہ درخت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے، اس وقت کشتی والا اس کو کاٹتا ہے ۔ اس کے تنے بناتا ہے اور پھر ان تختوں کو لوہے کی کیلوں سے جوڑ کر و ہ کشتی تیار کرتا ہے جو انسانی تقاضوں کو پانی کے اوپر سفر کرنے کے قابل بنائے۔ ذاتی معاملات میں ہر آدمی اس بات کو جانتا ہے ۔ مگر جب ملت کا معاملہ ہو تو وہ چاہتا ہے کہ فی الفور ایک عظیم الشان کشتی دریا میں اتار دے ۔ خواہ اس کے پاس کشتی کے نام سے کاغذ کی ناؤ ہی کیوں نہ ہو ۔

یا درکھئے ، یہ دنیا خدا کی دنیا ہے ۔ اس کو خدا نے بنایا ہے ۔ اور وہ اسی خدا کے قانون کے تحت چل رہی ہے ۔ ہم اس سے موافقت کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔ اگر ہم اس کے ساتھ موافقت نہ کریں تو ہمیں اس دنیا میں کچھ ملنے والا نہیں۔

جس طرح درخت تدریج کے ساتھ اگتا ہے ، اسی طرح انسانی زندگی کے معاملات بھی تدریج کے ساتھ درست ہوتے ہیں ۔ اگر آپ اپنی زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے قدرت کے اس تدریجی قانون کو جانئے اور اس کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے اپنا سفر شروع کیجئے ۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کا کوئی اور راستہ نہیں ۔ بقیہ تمام راستے کھڈ کی طرف جاتے ہیں نہ کہ کسی منزل کی طرف ۔

قرآن میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے ۔ صبر کا مطلب بے عملی نہیں ، صبر دراصل منصوبہ بند عمل کا دوسرا نام ہے ۔ بے صبر آدمی فوری رد عمل کے تحت بے سوچے سمجھے کارروائی کرتا ہے ۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملہ پر غور کرتا ہے ۔ وہ اپنی طاقت اور دوسرے کی طاقت کا اندازہ کرتا ہے ۔ وہ حالات کا جائزہ لیتا ہے ۔ وہ قانون قدرت کو سمجھتا ہے جس کے دائرہ میں اس کو اپنا عمل کرنا ہے۔

اسی طرح سوچ بچار کے بعد عمل کا نقشہ بنانے کے لیے اپنے جذبات کو تھامنا پڑتا ہے، اس لیے اس کو شریعت میں صبر کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسی کو منصوبہ بند عمل کہتے ہیں۔ اس دنیا میں صابرانہ عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے ، اور غیر صابرانہ عمل ہمیشہ ناکام ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page