Al-Risala · August 1991 · page 22

چیلنج کا جواب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۲

اپنی قدرت خاص سے ہمارے نہیں کو ہمارے سے میں تبدیل کر دیا۔

چیلنج کا جواب

انگریز مورخ ٹوائن بی (Arnold Toynbee) نے عالمی تاریخ کے گہرے مطالعہ کے بعد اپنی مشہور کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) لکھی جو 12 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ ٹوائن بی کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ چیلنج اور اس کا جواب (Challenge response) میکانزم وہ چیز ہے جو قوموں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔

ٹوائن بی کے مطابق، خارجی چیلنج ہی وہ لازمی عمل ہے جو افراد یا قوموں کے امکانات کو جگا دیتا ہے۔ تہذیب کا ابتدائی اور بنیادی مرحلہ ماحول کے ایسے چیلنج سے ظہور میں آتا ہے جو نہ اتنا سخت ہو کہ ترقی کو روک دے ، نہ اتنا موافق ہو کہ وہ تخلیقیت کو معطل کر دے۔ قوم کی ایک تخلیقی اقلیت اس چیلنج کا جواب دیتی ہے اور قوم کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے : The initial stage of a civilization is its growth, brought about by an environmental challenge, neither too serve to stifle progress nor too favourable to inhibit creativity, which finds a response among a creative minority that provides leadership to the passive majority. (X/76). اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کی مصیبتیں (troubles) لوگوں کی صلاحیتوں کو جگاتی ہیں بشرطیکہ وہ اتنی زیادہ نہ ہوں کہ آدمی اس کے نیچے دب کر رہ جائے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو مومن سب سے زیادہ تخلیقی انسان ثابت ہو سکتا ہے ، کیوں کہ مومن کے اندر سہنے اور تاب لانے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

عام انسان صرف اپنے آپ میں عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ صرف اپنی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ دوسری طرف مومن کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے علا وہ خدائے بر تر میں عقیدہ رکھتا ہے اور خدا کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے۔ انسان کی قوتیں محدود ہیں ، خدا کی قوتیں لامحدود۔ اس بنا پر عام انسان کے لئے کسی نہ کسی مقام پر حد آجاتی ہے ، جب کہ مومن کے لئے کبھی حد نہیں آتی۔ جہاں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page