چیلنج کا جواب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۳
مومن کی اپنی حد ختم ہو جائے، وہاں اس کا خدا اس کی کمی کی تلافی کے لئے موجود ہوتا ہے۔ من دوسروں کے مقابلہ میں مصیبت اور مشکلات کو زیادہ برداشت کر سکتا ہے۔ اس لئے وہ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ تخلیقی ثابت ہوتا ہے۔
مصیبتیں کیوں آدمی کو تخلیقی بناتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصیبتیں انسان کے دماغ کے اجزا اور (particles) کو جگاتی ہیں۔ وہ اس کی خوابیدگی کو بیداری بناتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب آدمی کے اوپر مشکلات آتی ہیں تو اس کی سوچنے اور کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اس واقعہ کے پیش نظر یہ کہنا صحیح ہے کہ عام انسان کے دماغ کے اجزا صرف محدود طور پر جاگتے ہیں۔ جب کہ مومن کے دماغ کے اجزا لا محدود طور پر جاگ اٹھتے ہیں۔ عام انسان کی تخلیقیت کی ایک حد ہے، مگر مومن کی تخلیقیت کی کوئی حد نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے (الطلاق (۳) ارشاد ہوا ہے کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ اللہ سے ڈرو ( المائدہ ۳) اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو ، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا (الاحزاب ۷۰ ، ۷۱) اس قسم کی آیتوں کا مطالعہ کیجئے ، اور پھر فطرت کے مذکورہ قانون کو سامنے رکھئے تو اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ اہل ایمان پر جب بھی مشکلات و مصائب کا لمحہ آئے تو اس وقت جو ضروری کام کرنا ہے وہ یہ کہ ان کے اندر اعتماد علی اللہ کی کیفیت کو ابھارا جائے۔ اللہ پر توکل اور اعتماد ان کے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرے گا۔ اور جن لوگوں کے اندر سہلنے اور برداشت کرنے کی صفت ابھر آئے وہ مشکلات کے وقت ہیرو بن جاتے ہیں۔ وہ مشکلات کو اپنے لئے نفسیاتی ٹانک بنا لیتے ہیں۔
اس دنیا میں مشکل کا پیش آ نا بذات خود کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ مشکل پیش آنے پر وقت آدمی اس کو کس طرح نبرد آزما ہو دے۔ اس لئے مشکل پیش آنے کی بروقت شکایت
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues