عیسکے ساتھ سیر
الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۴
عیسکے ساتھ سیر
ایک بار کا واقعہ ہے۔ میں مسلمانوں کے ایک اجتماع میں شریک ہوا۔ یہ اجتماع شہر کے ایک شاندار ہال میں کیا گیا تھا۔ بے ریش اور باریش مسلمانوں سے ہال کی کرسیاں بھری ہوئی تھیں۔ اجتماع کا پروگرام قراءت سے شروع ہونے والا تھا۔ مگر عین وقت پر معلوم ہوا کہ کوئی قاری یا حافظ اجتماع میں موجود نہیں ہے۔ چنانچہ کالج کے ایک استاد اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے پارہ عم سے دو سورتیں سادہ طور پر پڑھ کر سنائیں۔ سورہ والضحی اور سورہ الم نشرح۔
اس ابتدائی کارروائی کے بعد تقاریریں شروع ہوئیں۔ ایک کے بعد ایک لوگ اسٹیج پر آنا شروع ہوئے۔ لوگوں کی پر جوش تقریروں سے ہال گونجنے لگا۔ تمام تقریروں کا خلاصہ صرف ایک تھا ــــــــ اسلام آج مخالفانہ سازشوں سے گھرا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے دشمن ان کو فنا کر دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو آج ہر طرف تعصب ، ظلم ، سازش اور عناد کا سامنا ہے۔ اسی قسم کی باتوں پر اجتماع شروع ہوا اور اسی قسم کی باتوں پر آخر کار وہ ختم ہو گیا۔
آخر میں میں مائیک پر آیا۔ میں نے کہا کہ آپ حضرات نے اغیار کے خلاف تقریریں کی ہیں ، مگر مجھے خود آپ کے خلاف بولنا ہے۔ آپ کو دوسروں سے شکایت ہے ، مجھے خود آپ سے شکایت ہے۔
آپ نے اپنا یہ اجتماع اگر چہ قرآن کی تلاوت سے شروع کیا۔ مگر یہ تلاوت محض رسمی تھی ، بلکہ وہ قرآن کی نفی کے ہم معنی تھی۔ آپ لوگوں نے قرآن کو پڑھ کر قرآن کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
آپ نے اپنے اجتماع کے آغاز میں سورہ الم نشرح کی تلاوت کی۔ اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے تکرار کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ مشکل کے ساتھ ہمیشہ آسانی ہوتی ہے، مشکل کے ساتھ ہمیشہ آسانی ہوتی ہے (فان مع العسر يسراً ، ان مع العسر يسرا)
‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues