Al-Risala · August 1991 · page 29

قول سدید

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۲۹

قول سدید

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو ، اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو ۔ اللہ تمہارے اعمال کی اصلاح کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی (الاحزاب ۷۰ ۔ ۷۱)

اس آیت میں اہل ایمان کو قولِ سدید کا حکم دیا گیا ہے ۔ قولِ سدید سے مراد ہے بالکل ٹھیک بات ، عین مطابق واقعہ بات ۔ ایسے کلام کا انجام یہ بتایا گیا ہے کہ اس سے تم کو اصلاحِ اعمال کا فائدہ ہوگا ۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایک شخص کو دوسرے آدمی کے بارے میں کوئی بیان دینا ہوتا ہے ۔ ایسے مواقع آدمی اگر وہی بات کہے جو نفی واقع ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کہنے والے کے اندر سنجیدہ مزاج بنے گا ۔ نفسیاتی تضاد سے پاک شخصیت اس کے اندر پرورش پائے گی ۔ اس کے سینہ کے اندر دوسروں کے بارہ میں خیر خواہی کے جذبات ابھریں گے ۔ اور جب کہنے والے کا یہ حال ہوگا تو دوسرے لوگ بھی اس کا مثبت اثر لیں گے ۔ اس طرح پورا سماج صحت مند سماج بن جائے گا ۔ بغض ، حسد ، کینہ ، انتقام ، نفرت ، عیب جوئی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ جائے گی ۔ حقیقت پسندی اور صدق بیانی کا ماحول ہر طرف قائم ہو جائے گا ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ لوگ غیر سدید قول اپنی زبان سے نکالیں تو سارا معاملہ بالکل الٹا ہو جائے گا ۔ اب کہنے والے کے اندر منفی مزاج پر پرورش پائے گا ۔ وہ دہرا شخصیت کا انسان بن جائے گا ۔ ذاتی معاملات کے لئے اس کی سوچ کچھ ہوگی اور دوسروں کے معاملات کے لئے اس کی سوچ کچھ ۔ اس کے اندر سازشی ذہنیت بنے گی ۔ اس کا سینہ جھوٹے افکار کی تخلیق کا کارخانہ بن جائے گا ۔ اور جب فرد کے اندر ایسا ہوگا تو پورا معاشرہ بھی اسی ڈھنگ پر بننا شروع ہو جائے گا ۔ اس کے نتیجہ میں ہر طرف منافقت ، کی فضا پیدا ہوگی۔ ، انصاف پسندی ، کچرا دیٹ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page