Al-Risala · August 1991 · page 30

قول سدید

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۳۰

کی بنا پر دونوں میں نباہ نہ ہوسکا اور آخر کار طلاق ہوگئی۔ طلاق کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے نکاح فرمایا۔

اس واقعہ کو بتانے کے لئے "قول سدید" کا انداز یہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ زینب جو کہ مطلقہ ہو چکی تھیں، ان سے مدت گزرنے کے بعد پیغمبرِ اسلام ﷺ نے نکاح کر لیا اور ان کو شرعی طور پر اپنی ازواج میں شامل کر لیا۔ مگر مدینہ کے منافقین نے اس واقعہ کو غیر سدید انداز میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام کو زینب پسند آگئی تھیں۔ اس لئے انھوں نے تدبیر کر کے ان کو طلاق دلوا یا اور پھر پیشگی منصوبہ کے مطابق خود ان سے نکاح کر لیا۔

مدینہ کے منافقین نے اس واقعہ کو جس طرح پیش کیا وہ ایک صحیح واقعہ کو غلط شکل میں بیان کرنا ہے۔ یہ غیر سدید کلام اپنی زبان سے نکالنا ہے۔ اور غیر سدید کلام اپنی زبان سے نکالنا بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے ۔ ایسا ایک کلام آدمی کے تمام اعمال کو حبط کر سکتا ہے۔ اس سے آدمی کی اپنی روح بھی گندی ہوتی ہے اور اگر ایسی بات سماج میں پھیل جائے تو وہ سماج کو بھی فساد اور بگاڑ کی طرف لے جانے کا سبب بن جائے گی۔

قول سدید (الاحزاب ، ۷۰) کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک اور مثال لیجئے ۔ ابو الفداء الحافظ ابن کثیر نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے:

قد روی عن الحسن البصری انه کان یتقم حسن بصری کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ چار علی معاویة اربعة اشیاء . قتاله علیاً چیزوں کے لئے معاویہ پر سخت کراہت کا اظہار کرتے وقتله حجر بن عدی واستلحاقه زیاد تھے۔ ان کا علی سے لڑنا، ان کا حجر بن عدی صحابی بن ابيه و مبايعته ليزید ابنه کو قتل کرنا، ان کا زیاد بن ابیہ کو اپنے نسب (البداية والنهاية ١٣٠/٨) میں ملانا، اور ان کا اپنے بیٹے یزید کے لئے بیعت لینا اس واقعہ کو بیان کرنے کا ایک انداز یہ ہے کہ اس کو بتانے کے بارہ میں دوسرے الفاظ لے جائے ہو

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page