Al-Risala · August 1991 · page 44

Saddam has 47 days to get out

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴۴

یہاں پر اسلامک انفارمیشن سروس کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے۔ وہ ہر ہفتہ ایک ویڈیو ٹیپ تیار کر کے ٹیلیویژن کمپنی کو دیتا ہے اور اس کو ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ مجھ سے انھوں نے ویڈیو پر ایک مفصل انٹرویو لیا۔ اس میں اسلام کے موجودہ مسائل اور امریکی مسلمان اور ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں سوالات تھے۔ میں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نااہل لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں ملک میں لینے والے گروہ (taker-group) بن گئے۔ ان کی حیثیت دینے والے گروہ (giver-group) کی نہیں۔ ان کے مسئلہ کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ انھیں دوبارہ دینے والے گروہ کے مقام پر لایا جائے۔

مسٹر اسلم عبد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ محمد مسلم صاحب مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ یہاں وہ انگریزی میگزین (The Minaret) کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ تھا کہ "ہندوستانی مسلمانوں کے لئے صحیح ڈائرکشن یہ ہے کہ وہ کنفرنٹیشن کو اوائڈ کرتے ہوئے کام کریں۔ "

۵ دسمبر کی شام کو اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی کے ہال میں ایک اجتماع میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ یہ مسلم، مسیحی اور یہودی سیمینار (Trialogue) تھا۔ پہلے ایک یہودی عالم نے تقریر کی اور اپنے مذہب کی تعلیمات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد ایک عیسائی عالم کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے مذہب کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ آخر میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائرکٹر اسلامک سوسائٹی آرنج کاؤنٹی) کھڑے ہوئے، انھوں نے اسلام کا تعارف پیش کیا۔

ڈاکٹر صدیقی کو اللہ تعالی نے غیر معمولی صلاحیت عطا کی ہے۔ انھوں نے اسلام کا تعارف

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page