Al-Risala · August 1991 · page 43

Saddam has 47 days to get out

الرسالہ، اگست ۱۹۹۱، صفحہ ۴۳

چلاتا ہوا گزر رہا ہے۔ میری نظر ان لوگوں کی طرف گئی تو مرد نے ہاتھ اٹھا کر ہائی (ہیلو) کہا۔ میں پارک کے اندر داخل ہو رہا تھا اور وہ سڑک پر چلتے ہوئے دوسری طرف جا رہے تھے۔ اس واقعہ میں مجھے خود اپنا وداعی سفر دکھائی دینے لگا میں نے کہا : کل مجھے یہاں سے جانا ہے اسی طرح ایک اور آئے گا جب کہ میں اس دنیا کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ پہلے سفر کی منزل معلوم ہے ، مگر دوسرے سفر کی منزل معلوم نہیں ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ دوسرے سفر میں میرے اوپر کیا بیتنے والا ہے۔

کچھ دیر تک میں پارک میں بیٹھا ۔ خوبصورت پارک ، سرسبز درختوں سے ڈھکے ہوئے مکانات ، ہوا کے خوش گوار جھونکے ، سڑک پر پھسلتی ہوئی کاریں ، سورج کی سنہری روشنی میں اڑتے ہوئے ہوائی جہاز ، اس طرح کے مختلف مناظر کے درمیان میں نے سوچا کہ خدا نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں۔ لوگ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانا چاہتے ہیں ۔ مگر کوئی نہیں جو ان بے پایاں نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ میری زبان سے بے ساختہ نکلا : خدایا ، میں ساری انسانیت کی طرف سے تیرا شکر ادا کرتا ہوں تاکہ ان کے اوپر تیرا غضب نازل نہ ہو جائے۔

۴ دسمبر کو ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی صاحب کے ساتھ لاس اینجیلس گیا ۔ وہاں کے اسلامک سنٹر میں چند گھنٹے گزرے ۔ امریکی فوج کے تحت کیلی فورنیا میں ایک نشریاتی ادارہ (Armed Forces Radio & Television Broadcast Centre) عرصہ سے قائم ہے ۔ اس کے نمائندہ کے طور پر مسٹر رچرڈ ڈیون پورٹ (Richard Davenport) وہاں آئے ہوئے تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا ادارہ مختلف قسم کے ویڈیو کیسٹ تیار کرتا ہے جو امریکی فوج کے لئے ٹیلیویژن پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ پروگرام امریکہ کی تمام فوجی تنصیبات (bases) پر دیکھا جاتا ہے۔

اس وقت امریکہ کی تقریباً چار لاکھ فوج خلیج عرب کے علاقہ میں ہے۔ مزید فوج بھی وہاں بھیجی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ امریکی فوجی اسلام اور عرب کلچر کے بارہ میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ خلیج میں امریکی فوجوں کی موجودگی سے ایک اچھی چیز یہ اگست / ۱۹۹۱ الرسائل 43

‹ Previous page Next page › Contents of August 1991 All issues

Printed page